جمعہ, جولائی 10, 2026
اشتہار

پاکستان میں پرائمری اسکولوں میں داخلوں کی شرح میں 9.9 فیصد کی نمایاں کمی

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: پاکستان اقتصادی سروے میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں پرائمری اسکولوں میں داخلوں کی شرح میں 9.9 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اقتصادی سروے کے تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا کیا کہ ملک بھر میں 28 فیصد بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔

سروے رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ابتدائی تعلیم یعنی 5 سال تک کے بچوں کے اسکولوں میں داخلوں کی شرح میں 9.9 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، سال 2023-24 میں اس عمر کے داخلہ لینے والے بچوں کی تعداد 1 کروڑ 61 ہزار تھی، جو اب کم ہو کر 1 کروڑ 40 ہزار رہ گئی ہے۔

پرائمری، مڈل، سیکنڈری اور کالج سطح پر طلبہ کے داخلوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ پرائمری سطح پر داخلوں میں 3.3 فیصد، مڈل میں 7.4 فیصد، سیکنڈری میں 6.5 فیصد اور کالج سطح پر 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں 278 یونیورسٹیاں کام کر رہی ہیں جن میں 163 سرکاری اور 115 نجی شعبے کی جامعات شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں شرحِ خواندگی 74 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 55 فیصد ہے، جو دونوں علاقوں کے درمیان تعلیمی تفاوت کی عکاسی کرتا ہے

صوبائی اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں شرحِ خواندگی 68 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ، سندھ اور خیبر پختونخوا میں 58 فیصد جبکہ بلوچستان میں 49 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ سندھ میں اسکول سے باہر بچیوں کی شرح 47 فیصد ہے جو ملک میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ بلوچستان میں 31 فیصد بچیاں اور 25 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے۔

اقتصادی سروے میں تعلیمی شعبے میں بعض سطحوں پر بہتری کے باوجود لاکھوں بچوں کے اسکولوں سے باہر رہنے اور صوبوں کے درمیان تعلیمی تفاوت کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں