اسلام آباد : انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے جائزہ مذاکرات کی تیاریاں جاری ہے، پانچ اہم اصلاحاتی اہداف تاحال نامکمل ہے۔
پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اگلے جائزہ مذاکرات 25 ستمبر سے شروع ہوں گے، کامیاب مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف بورڈ کی جانب سے ایک ارب ڈالر کی قسط کی منظوری متوقع ہے۔
یہ قسط سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ فسیلٹی (EFF) پروگرام کے تحت جاری ہوگی، جس میں سے پاکستان اب تک دو قسطوں کی صورت میں دو ارب ڈالر سے زائد وصول کر چکا ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے 22 اسٹرکچرل بینچ مارکس میں سے پانچ پر ابھی تک عمل درآمد مکمل نہیں کیا، جس سے پاکستان کی تعمیل (compliance) پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اہم نامکمل اہداف میں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا منصوبہ شامل ہے جبکہ آئی ایم ایف نے اس حوالے سے پالیسی ایکشن پلان تیار کرنے کی شرط رکھی تھی جو تاحال حتمی شکل نہیں دے سکا۔
اسی طرح بدعنوانی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق تشخیصی رپورٹ (Corruption and Governance Diagnostic Assessment Report) بھی شائع نہیں کی گئی۔
مزید برآں، اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ میں ترمیم، سَوورن ویلتھ فنڈ قانون میں ترامیم اور پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ کا نیا مسودہ بھی ابھی تک زیر التوا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ہونے والے آئندہ مذاکرات میں انہی زیر التوا اصلاحات پر تفصیلی گفتگو ہوگی تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے تاکہ مالی تعاون کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔
Shoaib Nizami reports Finance, Fedeal Board of Revenue, Planning , Public Accounts, Banking, Capital Market, SECP, IMF, World Bank, Asian Development Bank, FATF updates for ARY News


