سعودیہ میں محصور پاکستانیوں کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں، پاکستانی سفیر -
The news is by your side.

Advertisement

سعودیہ میں محصور پاکستانیوں کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں، پاکستانی سفیر

ریاض: پاکستانی سفیر منظور الحق نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے مختلف کیمپس اور حراستی مراکز میں غیرقانونی طور پر مقیم پاکستانی مزدوروں کی بڑی تعداد موجود ہے مگر وہاں انہیں‌ کسی قسم کے مسائل درپیش نہیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ ’’سعودی عرب میں مختلف کیمپس موجود ہیں جہاں پاکستانیوں کی خاصی بڑی تعداد موجود ہے مگر روزانہ کی بنیاد پر تعداد میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے کیونکہ جن متاثرین کی واپسی کا انتظام ہوتا ہے انہیں روانہ کردیا جاتاہے‘‘۔

پاکستانیوں کے مسائل اور فاقہ کشی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ ’’متاثرین کو کھانا ملنے یا نہ ملنے کے حوالے سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ میری اطلاعات کے مطابق کیمپس یا جیلوں میں کوئی مسائل نہیں، پاکستانی قیدیوں کے پاس موبائل ہیں اور وہ اپنی ویڈیوز بنا کر بھیجتے رہتے ہیں جس کا واضح مطلب ہے کہ وہاں قیدیوں کو کسی قسم کے مسائل نہیں ہیں‘‘۔

پڑھیں: سعودی عرب کے حراستی مرکز میں ہزاروں پاکستانی محصور

سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے قیدیوں کو سہولیات فراہم نہ کرنے کے سوال پر منظور الحق نے کہا کہ ‘‘سفارت خانے میں عملہ روزانہ کی بنیاد پر جاتا ہے اور متاثرین کے کاغذات کی جانچ پڑتال کرتا ہے اور اپنے طور پر تمام خدمات پیش کررہا ہے‘‘۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’’سعودی عرب میں مقیم پاکستانی مزدوروں کی خاصی بڑی تعداد کے پاس دستاویزات موجود نہیں ہیں جو قانوناً جرم ہے تاہم سفارت خانے کی جانب سے کاوشیں جاری ہیں تاکہ ایسے افراد کو بھی وطن واپس بھیجا جاسکے‘‘۔

متاثرین کے واپسی کے حوالے سے پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ ’’سیکڑوں لوگ پاکستان جاچکے ہیں تاہم بقیہ لوگوں کی واپسی کے لیے کوشش جاری ہے اور وہ بھی عید تک پاکستان پہنچ جائیں گے‘‘۔

دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ’’سعودیہ عرب میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے حکومتی سطح پر کوشش جاری ہے، گزشتہ ہفتے 2 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو وطن واپس لایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’سعودیہ عرب کی جیلوں میں تاحال ہزاروں پاکستانی موجود ہیں تاہم اُن کی عیدالاضحیٰ سے قبل واپسی کی کوششیں جاری ہیں‘‘۔

مزید پڑھیں:  سعودی عرب کی جیلوں میں قید ہزاروں پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا، دفتر خارجہ

سعودی عرب میں موجود سنیئر صحافی لیاقت انجم نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’بیرونِ ممالک میں پاکستانیوں کے ساتھ یہ مسائل طویل عرصے سے پیش آرہے ہیں تاہم یہ سلمان اقبال اور اُن کے چینل اے آر وائی کا احسن قدم  ہے کہ وہ سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کی آواز بن گئے ہیں‘‘۔

لیاقت انجم نے مزید کہا کہ ’’سی ای او اے آر وائی نیوز کی جانب سے اس مسئلے پر آواز بلند کرنے پر سعودی کیمپوں میں موجود متاثرین میں خوشی کے تاثرات دیکھنے میں آئے ہیں اور اُن لوگوں نے سلمان اقبال کا تہہ دل سے شکریہ بھی ادا کیا ہے‘‘۔

لیاقت انجم نے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے ایک تجویز دیتے ہوئے کہاکہ ’’پاکستانی عوام بیرون ملک سفر سے قبل قانونی آگاہی حاصل کریں  کیونکہ یہاں جیلوں میں موجود افراد بھی قانونی شکنی کے باعث حراستی مراکز میں قید ہیں تاہم اگر پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے آواز بلند کی جائے تو چھوٹے مسائل میں پھنسے افراد کو فوری طور پر رہائی مل سکتی ہے کیونکہ سیکڑوں افراد معمولی جرمانے ادا نہ کرنے کے باعث قید کی سزا کاٹ رہے ہیں‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں