گوگل‘ فائرفاکس میں خامی کی نشاندہی کرنے والے پاکستانی آئی ٹی ماہرسے گفتگو -
The news is by your side.

Advertisement

گوگل‘ فائرفاکس میں خامی کی نشاندہی کرنے والے پاکستانی آئی ٹی ماہرسے گفتگو

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی، پاکستان کےاخلاقی ہیکر رافع بلوچ نے دنیا کے سب سے بڑے انٹرنیٹ بڑاؤزر گوگل اور فائرفاکس میں خامی کی نشاندہی کرکے ساری دنیا کو ورطہ ٔ حیرت میں ڈال دیا ۔

رافع بلوچ ایک آئی ٹی پروفیشنل ہیں اور کئی بین الاقوامی اخباروں اور جریدوں میں ان کا اینڈرائیڈ کے حوالے سےان کے ریسرچ پیپر شائع ہوچکے ہیں۔ ان کا شمار دنیا کے ٹاپ فائیو اخلاقی ہیکرز میں ہوتا ہے جو کہ انٹر نیٹ کی دنیا کو محفوظ بنانے کا عزم لیے کوشاں ہیں۔

ناصرف یہ بلکہ رافع وہ پہلے پاکستانی سیکیورٹی ریسرچر ہیں جنہیں گوگل‘ فیس بک‘ پے پال ‘ ایپل ‘ مائیکروسافٹ سمیت متعدد انٹرنیٹ آرگنائزیشن کی جانب سے تسلیم کیا گیا ہے۔

رافع پے پال میں ایک بے ضابتگی تلاش کرنے پر مذکورہ کمپنی سے دس ہزار امریکی ڈالر کا انعام بھی حاصل کرچکے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ اخلاقی ہیکنگ کے موضوع پر 2014میں شائع ہونے والی ایک اہم کتاب کے مصنف بھی ہیں۔

hack-post-3

علاوہ ازیں رافع بلوچ دنیا کی سب سے بڑی انٹرنیٹ سیکیورٹی کنفرنس’بلیک ہیٹ ایشیا‘ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے واحد پاکستانی ہیں۔

گزشتہ دنوں دنیا کے سب سے بڑے براؤزر گوگل اور فائرفاکس میں ایک انتہائی اہم بگ کی نشاندہی کرنے پر وہ خبروں کی زینت بنے تھے جس کے بعد ہم نے ان کے انٹرویو کا اہتمام کیا کہ ہمارے ناظرین پاکستان کا سر فخرسے بلند کرنے والے پاکستانی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان سکیں۔

تعلیم سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں رافع نے بتایا کہ’’ وہ ایک کمپیوٹر سائنس گرایجویٹ ہیں‘‘۔

ان کی جانب سے شناخت کیے گئے بگ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہناتھا کہ’’ یہ بگ 70 فیصد سے زائد موبائل براؤزرز میں پایا جارہاہے اوروہاں سے آنے والے ٹریفک پر اثر انداز ہورہا ہے‘‘۔

رافع کے مطابق ’’یہ بگ انٹرنیٹ صارف کے ایڈرس بار تک رسائی حاصل کرتا ہےاور صارف کا مطلوبہ ڈومین نیم اسے دکھاتے ہوئے اسے ہیکر کی مطلوبہ ویب سائٹ پر لے آتا ہے ‘‘۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یوں سمجھیں کہ اگر آپ گوگل ڈاٹ کام پر جانا چاہتے ہیں تو یہ بگ آپ کو کسی جعلی گوگل پیج پر لے جائے گا اور صارف کو اس کی خبر بھی نہیں ہوگی‘‘۔

 


رافع بلوچ کی جانب سے اس بگ کی دریافت پر پے پال‘ گوگل اور فائرفاکس

 نےان کی خدمات کو سراہتے ہوئے انعامی رقم سے بھی نوازا ہے


 

پاکستان نوجوانو ں کی صلاحیتوں سے متعلق پوچھے گئے سوال پر انہوں کہا کہ’’پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے ، ضروت صرف اس امر کی ہے کہ حکومتِ پاکستان نوجوانوں کے لیے مواقع پید اکرے، تو ہمارے نوجوان کمال کرسکتے ہیں‘‘۔

hack-post-2

پاکستان میں آئی ٹی انڈسٹری کو وسعت دینے کے لیے حکومت کی ذمہ داریوں سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’’ حکوت کو چاہیے کہ پرائمری سے لے کر بیچلرز کی سطح تک کمپیوٹر اور آئی ٹی کے نصاب کو دوبارہ سے مرتب کیا جائے اور اسے عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ ہمارے ادارے بین الاقوامی معیار کے پروفیشنل پیدا کرسکیں، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت آئی ٹی سے متعلق فنڈز کی شروعات کرے‘‘۔


سائبر کرائم بل سے متعلق رافع بلوچ کی رائے


رافع سمجھتے ہیں کہ سائبر کرائم بل کی صورت ہم نے صرف مرض کی علامتوں کا علاج کرنے کی کوشش کی ہے اصل مرض پر کوئی توجہ نہیں دی، انہوں نے کہا کہ ’’ سائبر کرائم اس لیے ہوتے ہیں کہ عوام میں سائبرسیکیورٹی سےمتعلق آگاہی کا فقدان ہے ۔ حکومت نے اس سنگین مسئلے کی جانب کوئی توجہ نہیں دی حالانکہ مغرب سائبر سیکیورٹی سے متعلق آگاہی کے لیے بھاری انویسٹمنٹ کرتا ہے، حال ہی میں امریکی صدر باراک اوبامہ نے سائبر آگاہی مہم کے لیے 19 ارب ڈالر کی منظوری دی ہے‘‘۔

رافع کے مطابق’ ’سائبر کرائم بل میں کئی جھول ہیں ۔ بل میں سائبر دہشت گردی کی بات کی گئی ہے لیکن سائبر دہشت گردی کیا ہوتی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی، حالانکہ سائبر کرائم اور سائبر دہشت گردی میں زمین آسمان کافرق ہے۔ بل میں ڈیٹا کی چوری سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی اور سب سے بڑھ کر اخلاقی ہیکروں کو کسی قسم کا تحفظ فراہم نہیں کیا گیا‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں