اتوار, فروری 15, 2026
اشتہار

ٹرین انجن فیل ہونے، کوچز کی قلت اور اے سی سسٹم کی خرابیوں پر سخت سوالات

اشتہار

حیرت انگیز

قائمہ کمیٹی برائے ریلوے میں وزیر ریلوے کی عدم حاضری پر شدید اعتراض کرتے ہوئے انجن فیل ہونے، کوچز کی قلت اور اے سی سسٹم کی خرابیوں پر سخت سوالات کیے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس رکن قومی اسمبلی رمیش لال کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں پاکستان ریلوے کو درپیش سنگین مسائل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں ٹرین انجن فیل ہونے کے باعث تاخیر، مسافروں کو درپیش مشکلات، مسافر کوچز کی شدید قلت اور کوچز میں غیر فعال ایئرکنڈیشننگ پاور پلانٹس کے باعث سروس کوالٹی متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ کوچز کی کمی کے باعث ریلوے کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

اجلاس میں وزیر ریلوے حنیف عباسی کی عدم موجودگی پر کمیٹی ارکان نے شدید اعتراض کیا۔ رکن کمیٹی صادق علی میمن نے کہا کہ وزیر ریلوے سے بڑی امیدیں تھیں وہ ایک دو بار کمیٹی میں آئے مگر بعد میں شرکت نہیں کی۔ احمد سلیم صدیقی نے کہا کہ وزیر ریلوے نے ملاقات میں اجلاس میں آنے کا وعدہ کیا تھا مگر وہ پورا نہ ہو سکا۔ وسیم قادر نے کہا کہ کمیٹی کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا، جبکہ محمد نعمان نے آئندہ اجلاس میں سی ای او اور آئی جی ریلوے کی شرکت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

اجلاس میں ارکان نے کہا کہ ریلوے حکام کے آپسی مسائل کا خمیازہ مسافروں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ وسیم قادر نے کہا کہ وہ ویڈیوز بھی فراہم کریں گے اور ان پر کارروائی ہونی چاہیے۔ حکام ریلوے نے موقف اختیار کیا کہ پرانا نظام ہے، جس میں بہتری کی گنجائش موجود ہے، پرائیویٹ سیکٹر کو بڑے پیمانے پر شامل کیا جا رہا ہے اور ڈیجیٹلائزیشن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ حکام کے مطابق فائلوں سے لے کر ٹکٹنگ تک تمام نظام ڈیجیٹل کیا جا رہا ہے اور نئی ٹرین سروسز میں چینی کوچز کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔

حکام نے بتایا کہ کراچی سے لاہور سفر کا دورانیہ 18 سے 19 گھنٹے ہے جبکہ ملت اور قراقرم ٹرینوں میں کوچز کی کمی ہے۔ اس پر یقین دہانی کرائی گئی کہ کراچی اور لاہور کے لیے اضافی کوچز کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں ریلوے سوسائٹیز اور زمینوں کے مسائل بھی زیر بحث آئے۔ صادق علی میمن اور وسیم حسین نے حیدرآباد اور کراچی میں ریلوے کالونیوں اور پلاٹس کے معاملات اٹھائے۔ رمیش لال نے انکشاف کیا کہ کراچی سے ننکانہ صاحب جانے والے ہندو یاتریوں سے 9 لاکھ روپے تک اضافی کرایہ لیا گیا، جس میں سے 8 لاکھ روپے واپس کیے جا چکے ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ ریلوے کے پاس 86 پاور وین موجود ہیں جن میں سے 54 قابل استعمال، 16 ورکشاپ میں جبکہ 20 کی کمی ہے۔ ایم ایل ون منصوبے پر بھی سوالات اٹھائے گئے، ارکان نے کہا کہ اس کا وجود نظر نہیں آ رہا۔ سکھر ٹریک اور تجاوزات کے معاملات پر بھی سخت ریمارکس دیے گئے۔

اجلاس کے اختتام پر قائم مقام چیئرمین رمیش لال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے مستقل چیئرمین کے تقرر اور ریلوے کے مختلف منصوبوں پر کمیٹی کے دوروں کا اعلان کیا، جبکہ گرین لائن میں بزنس کلاس بوگی شامل کرنے کی تجویز بھی دی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں