The news is by your side.

Advertisement

کابل دہشت گردی میں پاکستانی سرزمین استعمال ہونے کا الزام مسترد

اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کی جانب سے عائد کیے گئے حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے پاکستانی سرزمین استعمال کرنے کے الزامات مسترد کردیے۔

تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ایسے تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔ جماعت الاحرار اور داعش افغانستان میں موجود ہیں۔ 27 افراد ان جماعتوں سے تعلق کے شبہ میں افغانستان کے حوالے کیے۔

دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ افغان ایجنسی اور وزیر داخلہ نے پاکستان کو کچھ معلومات دی ہیں۔ افغانستان کی فراہم کردہ معلومات پر تحقیقات کر رہے ہیں۔ افغانستان میں مزید تشدد سے معاملات خراب ہوں گے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا افغانستان میں ناکامی چھپانے کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتا ہے۔ امریکا نے جن افراد پر حال ہی میں پابندی عائد کی وہ پاکستانی شہری نہیں۔ ’مشعال ریڈیو بغیر لائسنس کام کر رہا تھا، بندش وزارت داخلہ نے کی‘۔

ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ پاکستان کسی بھی ٹھوس معلومات پر کارروائی کرے گا۔ افغانستان پر منحصر ہے کہ وہ امن کے لیے مختلف فریقین سے بات کرے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز افغان حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ کابل حملے کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی ہے۔

افغان حکام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے پاکستان میں منصوبہ بندی کیے جانے کے ناقابل تردید ثبوت پاکستان کے حوالے کردیے ہیں اور ان پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ افغانستان میں دہشت گردی کی نئی لہر اٹھی ہے اور یکے بعد دیگرے افغانستان کے اہم علاقوں کو بم دھماکوں اور حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

گزشتہ ماہ 27 جنوری کو افغان دارالحکومت کابل کے ریڈ زون میں ہونے والے بم دھماکے میں 95 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل 21 جنوری کو کابل کے انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے افغانستان میں ہونے والے تمام حملوں کی مذمت کرتے ہوئے افغان عوام سے اظہار یکجہتی کیا تھا۔

گزشتہ روز وزیر خارجہ خواجہ آصف افغان سفارتخانے بھی پہنچے تھے جہاں انہوں نے تعزیتی کتاب میں کابل دہشت گردی پر اپنے تاثرات قلمبند کیے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں