اسلام آباد : پاکستان چار سال بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کے لئے تیار ہے، ڈالر، یورو یا اسلامی سکوک بانڈ جاری کئے جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کے موقع پر بلومبرگ کو انٹرویو میں کہا پاکستان چار سال کے وقفے کے بعد دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی معیشت میں استحکام آیا ہے، جبکہ چند سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا تھا۔
وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کے لیے تجویز جاری کرے گی۔ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ ڈالر، یورو یا اسلامی سکوک بانڈ جاری کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ان کے مطابق مہنگائی، شرحِ سود، مالی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ سمیت تمام بڑے معاشی اشاریے بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان 2022 کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے تقریباً باہر ہو گیا تھا، تاہم آئی ایم ایف کے پروگرامز کے تحت سخت مالی اصلاحات کی گئیں۔ مہنگائی جو ایک وقت میں 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب کم ہو کر ایک ہندسی سطح پر آ چکی ہے۔ حکومت نے دوبارہ پرائمری مالی سرپلس حاصل کیا ہے اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کی ہے۔
محمد اورنگزیب کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر جون تک تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہو جانے کی توقع ہے، جو عالمی معیار سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روپے پر فوری دباؤ نہیں ہے، کیونکہ ادائیگیوں کا توازن بہتر ہوا ہے، ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوا ہے اور سروسز کی برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ روپیہ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے مستحکم ہے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے التوا کا شکار اصلاحات بھی کی جا رہی ہیں، جن میں سرکاری اداروں کی نجکاری اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا شامل ہے۔ قومی ایئرلائن کو گزشتہ ماہ فروخت کر دیا گیا ہے۔ اب حکومت نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل میں اپنا حصہ فروخت کرنے، بڑے ہوائی اڈوں کے انتظامات آؤٹ سورس کرنے اور تقریباً دو درجن دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری پر غور کر رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی ترجیح برآمدات پر مبنی ترقی ہے، تاکہ درآمدات پر انحصار کی وجہ سے بار بار پیدا ہونے والے ادائیگیوں کے بحران سے بچا جا سکے۔
وزیرِ خزانہ نے کہا، “ہمیں اصلاحات کے راستے پر قائم رہنا ہوگا، کیونکہ یہی پائیدار ترقی کا واحد حل ہے۔
Shoaib Nizami reports Finance, Fedeal Board of Revenue, Planning , Public Accounts, Banking, Capital Market, SECP, IMF, World Bank, Asian Development Bank, FATF updates for ARY News


