ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ ہوا ہے لیکن یہ معاہدہ کسی تیسرے ملک کیخلاف نہیں ہے۔
ترجمان کے مطابق پاک سعودی عرب تعلقات بھائی چارے اور تعاون کی منفرد مثال ہیں پاکستانی عوام کو سرزمین حرمین شریفین سےخاص عقیدت ہے، 1960 کی دہائی سے دفاعی تعاون پاکستان سعودی تعلقات کا بنیادی ستون رہا ہے، دونوں ملکوں کی قیادت تعلقات نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک پر جارحیت دونوں ممالک پر جارحیت تصور ہو گی، پاک سعودی عرب معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ خطےمیں امن واستحکام میں اہم کردار ادا کرے گا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ
پاکستان اور سعودی عرب میں بڑا دفاعی معاہدہ طے پایا ہے جس پر وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستخط کیے۔
معاہدہ دونوں ممالک کی سلامتی کو بڑھانے کیلیے مشترکہ عزم کی عکاسی ہے، خطے اور دنیا میں سلامتی و امن کے حصول کیلیے مشترکہ عزم ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ معاہدے کا مقصد کسی بھی جارحیت کیخلاف مشترکہ دفاع و تحفظ مضبوط بنانا ہے کسی ملک کے خلاف جارحیت دونوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور ہوگی۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی اہم ملاقات ہوئی جس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار ودیگر وزرا بھی شریک تھے۔
ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور دفاعی تعاون پر گفتگو کی گئی۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


