اسلام آباد (16 مئی 2026): وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کی مچھلی اور فشریز مصنوعات کی برآمدات ملکی تاریخ میں پہلی بار 50 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں، جسے انہوں نے بحری شعبے اور بلیو اکانومی کیلیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔
اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے رواں مالی سال کیلیے 50 کروڑ ڈالر برآمدات کا ہدف مقرر کیا تھا، جو مالی سال کے اختتام سے 46 روز قبل ہی حاصل کر لیا گیا۔ انہوں نے اس کامیابی کو حکومتی اصلاحات، بہتر سہولت کاری اور نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
جنید انوار چوہدری نے وزارتِ بحری امور، میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشترکہ کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ معیار میں بہتری، فشریز سیکٹر کی جدید خطوط پر ترقی اور عالمی منڈیوں تک رسائی میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے میرین فشریز بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منصور وسان اور ان کی ٹیم کو ہدف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کرنے پر مبارکباد بھی دی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستانی مچھلی اور سی فوڈ کو پہلی بار روسی منڈی تک رسائی حاصل ہوئی ہے اور اب تک 16 پاکستانی کمپنیوں کو روس کو سی فوڈ برآمد کرنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔ ان کے مطابق روسی مارکیٹ تک رسائی یوریشین اکنامک یونین کی دیگر منڈیوں تک رسائی کی راہ بھی ہموار کرے گی، جبکہ مستقبل میں سالانہ سی فوڈ برآمدات 80 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف روس کو برآمدات سے ابتدائی طور پر تقریباً 30 کروڑ ڈالر آمدن متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سی فوڈ کی ترسیل سمندری، فضائی اور زمینی راستوں سے کی جائے گی، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان میں بڑھتی طلب کے پیشِ نظر زمینی راہداریوں سے کم لاگت تجارت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سیمنٹ کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ
وفاقی وزیر کے مطابق مالی سال 2025-26 کے پہلے 6 ماہ کے دوران جولائی تا دسمبر فشریز برآمدات 1 لاکھ 22 ہزار 629 میٹرک ٹن رہیں جن کی مالیت 25 کروڑ 32 لاکھ ڈالر رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں برآمدات 1 لاکھ 2 ہزار 942 ٹن اور مالیت 20 کروڑ 82 لاکھ ڈالر تھی۔ اس طرح برآمدی حجم میں 19.1 فیصد اور مالیت میں 21.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ فروزن فش سب سے بڑی برآمدی کیٹیگری رہی جس کی 26 ہزار 669 ٹن برآمدات سے 5 کروڑ 33 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے، جبکہ جھینگا اور پراونز سے 4 کروڑ 4 لاکھ ڈالر اور فروزن کٹل فش سے 3 کروڑ 61 لاکھ ڈالر آمدن ہوئی۔ اس کے علاوہ شرمپ میل، کیکڑے، سارڈین، میکریل، فلیٹ فش اور فش میل کی برآمدات نے ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں اضافہ کیا۔
محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ چین پاکستان کی سب سے بڑی سی فوڈ منڈی رہا جہاں 83 ہزار 602 ٹن سے زائد مصنوعات 14 کروڑ 92 لاکھ ڈالر مالیت کے ساتھ برآمد کی گئیں، جو مجموعی برآمدات کا تقریباً 59 فیصد بنتی ہیں۔ تھائی لینڈ دوسرے نمبر پر رہا، جہاں بنیادی طور پر HACCP معیار کے مطابق تیار کردہ جھینگے اور پراونز 3 کروڑ 13 لاکھ ڈالر مالیت کے برآمد کیے گئے۔ متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور جاپان کو برآمدات میں بھی اضافہ ہوا جبکہ یورپی یونین، سعودی عرب، ویتنام، کویت اور امریکا میں بھی نئی منڈیاں حاصل کی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ نومبر میں برآمدات 5 کروڑ 64 لاکھ ڈالر اور دسمبر میں 5 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ فشریز سیکٹر سے نان ٹیکس ریونیو بڑھ کر 12 کروڑ 77 لاکھ روپے ہو گیا جو گزشتہ سال 11 کروڑ 80 لاکھ روپے تھا۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کو امریکا میں سی فوڈ برآمدات کیلیے مزید 4 سال کی توسیع بھی مل گئی ہے، کیونکہ نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن نے پاکستانی فشریز کو میرین میمل پروٹیکشن ایکٹ کے تحت “کمپیریبل” قرار دیا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی میں 100 ایکڑ پر مشتمل جدید سی فوڈ پروسیسنگ اور ایکسپورٹ زون قائم کرے گی تاکہ بلیو اکانومی کو فروغ دیا جا سکے اور عالمی سی فوڈ تجارت میں پاکستان کا کردار مزید مضبوط ہو۔ 6 سے 8 کروڑ ڈالر لاگت کے اس منصوبے میں مچھلی، جھینگا اور سیفالوپوڈز کی پروسیسنگ کیلیے 20 سے 25 درمیانے اور بڑے یونٹس قائم کیے جائیں گے، جبکہ ویلیو ایڈیشن اور ایکسپورٹ گریڈ پیکجنگ سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے میں کولڈ اسٹوریج، بلاسٹ فریزنگ سہولیات، منفی 18 سے منفی 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت رکھنے والے اسٹوریج یونٹس، آئس پلانٹس اور روزانہ 50 سے 100 ٹن صلاحیت کے فلیک آئس اسٹیشنز بھی شامل ہوں گے۔


