بدھ, مئی 20, 2026
اشتہار

’’پاکستان میں سالانہ 20 سے 30 فی صد سمندری خوراک ضائع ہو جاتی ہے‘‘

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (30 مارچ 2026): وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں سالانہ 20 سے 30 فی صد سمندری خوراک ضائع ہو جاتی ہے۔

بین الاقوامی زیرو ویسٹ ڈے پر وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے ایک اہم پیغام میں کہا کہ سمندری خوراک کا ضیاع معیشت اور ماحول کے لیے بڑا خطرہ ہے، اس لیے اس دن کا تھیم ’’فوڈ لاس اینڈ ویسٹ‘‘ پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے۔

جنید انوار چوہدری نے کہا پاکستان میں ہر سال بیس سے تیس فی صد سمندری خوراک ضائع ہو رہی ہے، اس ضیاع میں کمی کے لیے اقدامات جاری ہیں، سی فوڈ ویسٹ میں کمی سے ماحولیاتی تحفظ اور معیشت کو فائدہ ہوگا۔

وزیر بحری امور کا کہنا تھا کہ فشریز سیکٹر کے لیے قومی ڈیجیٹل ایپ ’’ماہی دوست‘‘ لانچ کر دی گئی ہے، اس ایپ سے معیشت کے استحکام اور ویسٹ میں کمی میں مدد ملے گی، پاکستان کی فشریز انڈسٹری 15 لاکھ افراد کے روزگار کا ذریعہ ہے۔


پاکستان میں پائے جانے والے مڈ اسپائنی لابسٹر کی پہچان، صحت بخش فوائد اور مکمل معلومات


بین الاقوامی یومِ زیرو ویسٹ (صفر فضلہ)، جو مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے انسانی بستیاں (UN-Habitat) کے زیرِ اہتمام منایا جاتا ہے، عالمی سطح پر فضلے کے بہتر انتظام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور فضلے کی آلودگی کے بحران سے نمٹنے کے لیے پائیدار کھپت اور پیداوار کے طریقوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

یو این کے مطابق ہر سال انسانیت 2.1 ارب سے 2.3 ارب ٹن کے درمیان ٹھوس شہری فضلہ پیدا کرتی ہے، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک سالانہ فضلہ 3.8 ارب ٹن تک پہنچ جائے گا۔

فضلہ آلودگی انسانی صحت کے لیے خطرہ ہے، عالمی معیشت کو ہر سال کھربوں ڈالر کا نقصان پہنچاتی ہے، اور تین بڑے سیاروی بحرانوں کو مزید شدید بناتی ہے جن میں ماحولیاتی تبدیلی کا بحران، قدرت، زمین اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان کا بحران، اور آلودگی و فضلہ کا بحران شامل ہیں۔

اس دن کے حوالے سے رواں برس کی توجہ خوراک کے ضیاع پر مرکوز ہے، جو ماحولیاتی نقصان کا ایک اہم مگر قابلِ روک تھام سبب ہے۔ دنیا میں بڑے پیمانے پر خوراک ضائع ہو رہی ہے، جس سے غذائی تحفظ کی کوششیں کمزور ہو رہی ہیں، صرف 2022 میں تقریباً 1 ارب ٹن خوراک ضائع کر دی گئی جو صارفین کے لیے دستیاب کل خوراک کا قریباً پانچواں حصہ ہے۔

خوراک کا ضیاع اور نقصان ماحولیاتی اور موسمیاتی خطرے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ یہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا تقریباً 10 فی صد بنتا ہے، جو ہوا بازی کے شعبے کے اخراج سے تقریباً 5 گنا زیادہ ہے، اور عالمی میتھین اخراج کا تقریباً 14 فی صد حصہ ہے۔ خوراک کے ضیاع پر قابو پانا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے سب سے مؤثر اور قابلِ عمل حلوں میں سے ایک ہے، جو زیرو ویسٹ حکمتِ عملیوں سے ہم آہنگ ہے، جن میں روک تھام، وسائل کا مؤثر استعمال اور نظامی تبدیلی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حکومتوں، کاروباری اداروں اور افراد کو چاہیے کہ وہ فضلہ آلودگی کے بحران پر قابو پانے کے لیے زیرو ویسٹ طرزِ عمل اپنائیں۔

+ posts

اہم ترین

مزید خبریں