بدھ, اگست 12, 2026
اشتہار

پاکستان کی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کیلئے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی درخواست

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : پاکستان نے امریکا سے دس ارب ڈالر کی بیک اسٹاپ فیسلٹی کی درخواست کردی ، اگر یہ درخواست منظور ہو جاتی ہے تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو نمایاں سہارا مل سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی خبر رساں ایجنسی ‘روئٹرز’ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے اور معاشی استحکام کے لیے امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ‘بیک اسٹاپ فیسلٹی’ کی درخواست کر دی۔

یہ درخواست ‘ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت’ کے تحت امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو ارسال کی گئی ہے، جس میں پانچ سال کے لیے مالی معاونت طلب کی گئی ہے۔

روئٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکی وزارتِ خزانہ سے یہ فنڈز 5 سال کی مدت کے لیے حاصل کرنے کی استدعا کی ہے، اگر یہ درخواست منظور ہو جاتی ہے تو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو نمایاں سہارا مل سکتا ہے۔

Pakistan seeks $10 billion exchange stabilization facility from US: sources

اس کے ساتھ ہی روپے پر دباؤ میں کمی آئے گی اور ملک کے بیرونی مالیاتی استحکام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی،اس اقدام کا مقصد پاکستان کی بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک رسائی کو بھی مضبوط بنانا ہے۔

دوسری جانب واشنگٹن میں امریکی حکام نے روئٹرز کی اس رپورٹ اور پاکستان کی مبینہ درخواست پر کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے معذرت کر لی ہے جبکہ اسلام آباد میں وزارتِ خزانہ کے حکام نے اب تک اس درخواست کی باقاعدہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی اس کی تردید کی ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ پاکستان اس وقت 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہے، جس کے بدلے حکومت کو ٹیکسوں میں اضافے، سرکاری اخراجات میں کمی اور متعدد معاشی اصلاحات پر عمل کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان 2023 میں آئی ایم ایف کے 3 ارب ڈالر کے پروگرام کے ذریعے ڈیفالٹ سے بچا، جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مزید 1.3 ارب ڈالر کی مالی معاونت بھی حاصل کی۔

روئٹرز میں کہنا تھا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اب بھی بڑی حد تک دوست ممالک کی مالی معاونت پر انحصار کرتے ہیں۔ اپریل میں پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالر واپس کیے، جبکہ سعودی عرب نے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کی نئی مالی معاونت فراہم کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فچ ریٹنگز کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد سے پاکستان کی مالی صلاحیت میں بہتری آئی ہے، تاہم مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹیں معیشت کے لیے اہم خطرات ہیں۔

روئٹرز نے مزید بتایا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں امریکا کے ساتھ اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے، جس کے نتیجے میں کرپٹو کرنسی، معدنیات اور دیگر شعبوں میں پیش رفت ہوئی ہے، پاکستان نے امریکی سرمایہ کاری، خصوصاً ریکوڈک منصوبے میں دلچسپی بڑھانے کی کوشش کی، جبکہ امریکی ایگزم بینک اس منصوبے کے لیے پہلے ہی 1.25 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا اعلان کر چکا ہے۔

اہم ترین

شعیب نظامی
شعیب نظامی
Shoaib Nizami reports Finance, Fedeal Board of Revenue, Planning , Public Accounts, Banking, Capital Market, SECP, IMF, World Bank, Asian Development Bank, FATF updates for ARY News

مزید خبریں