پشاور(27 فروری 2026): خیبر پختونخوا کے اضلاع ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں افغان طالبان کے زیرِ سرپرستی کام کرنے والے ‘فتنہ الخوارج’ کی جانب سے ڈرون حملوں کی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے ان علاقوں میں چھوٹے ڈرونز کے ذریعے حملوں کی کوشش کی، تاہم پاکستان کے جدید اینٹی ڈرون ڈیفنس سسٹم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے تمام ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر کے گرا دیا۔ ان واقعات میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق ان ناکام حملوں نے ایک بار پھر افغان طالبان کی موجودہ حکومت اور پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کے درمیان گٹھ جوڑ کو عالمی سطح پر بے نقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی ان بزدلانہ کارروائیوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
پاک فوج نے 5 افغان پوسٹوں پر قبضہ کر کے پاکستان کا پرچم لہرا دیا
واضح رہے پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف پاکستان کا آپریشن غضب للحق جاری ہے، پاک افواج کے حملوں میں افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ 27 افغان چوکیاں بھی مکمل تباہ کر دی گئیں۔
دوسری جانب طالبان حکومت کے ترجمان نے کابل، پکتیا اور قندھارپربمباری کی تصدیق کردی، افغان میڈیا کے مطابق رات تقریباً ایک بج کر 50 منٹ پر کابل میں طالبان کے ایک فوجی مرکز کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
افغان میڈیا نے بتایا کہ صوبے پکتیا میں طالبان منصوری کور پردو مرتبہ بمباری کی گئی۔ افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ رات 12 بجے کے بعد قندھار میں پاکستانی طیارہ پرواز کرتا ہوا دیکھا گیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


