گزشتہ تقریبا دو دہائیوں سے پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی کوریج کے دوران راقم نے کئی مالیاتی بحران اور اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ آج اسٹاک مارکیٹ بہت بدل چکی ہے۔ اب سرمایہ کاری کا عمل سہولت اور شفافیت کے ساتھ ڈیجیٹل بنیادوں پر جاری ہے اور حالیہ برسوں میں اس کا ایک مثبت اور نمایاں اثر ہم نے دیکھا ہے۔اس وقت اسٹاک مارکیٹ میں ہماری نئی نسل یا جین زی بڑی تعداد میں سرمایہ کاری اور اس تمام عمل میں دل چسپی لے رہی ہے۔
یہاں ہم رواں سال 30 جون کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران پاکستان اسٹاک ایکس چینج کی کارکردگی، نئی کمپنیوں کی لسٹنگ کے ساتھ جین زی کی اسٹاک مارکیٹ میں دل چسپی اور اس کے مختلف سود مند اور مثبت پہلوؤں کو اجاگر کررہے ہیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے اتار چڑھاؤ کو مختلف انڈیکس کے ذریعے جانچا جاتا ہے۔ اس کا بینچ مارک انڈیکس، کے ایس ای 100 انڈیکس کہلاتا ہے۔ جس میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی 10 کمپنیوں کا اندراج ہوتا ہے۔ جولائی 2025ء سے 30 جون 2026ء کے دوران مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رجحان رہا۔ سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر حصص کی خریدو فرخت کی۔ اور اس دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں 53 ہزار سے زائد پوائنٹس کے اضافے کے بعد 179,000 پوائنٹس کی تاریخی حد کو بھی عبور کر گیا۔ مارکیٹ انڈیکس میں مجموعی طور پر 43 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔
مارکیٹ کے انڈیکس میں صرف تیزی نہیں ہوئی بلکہ مارکیٹ کے منافع کی شرح میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے گزشتہ تین سالوں کے دوران اور خاص طور پر گزشتہ مالی سال میں دنیا اور خطے کی بہترین کارکردگی دکھانے والی مارکیٹس میں اپنی جگہ بنائی ہے۔
مارکیٹ میں اگر ڈالر کی مد میں منافع کو دیکھا جائے تو سرمایہ کاروں کو لگ بھگ 66 فیصد سالانہ کا غیر معمولی منافع ہوا ہے جو کہ اس خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایسا کیا ہوا کہ اسٹاک مارکیٹ میں اس قدر تیزی دیکھی جارہی ہے۔ کیا یہ سب محض ایک بلبلہ ہے جو کسی بھی وقت پھٹ جائے گا یا پھر یہ سب معیشت کی مجموعی بہتری کی تصویر کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں اس تیزی کی اصل وجہ پاکستان میں میکرو اکنامک استحکام اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات پر عمل درآمد ہے۔ ماضی میں پاکستان کو آئی ایم ایف کی ایک قسط والا ملک کہا جاتا تھا۔ کیونکہ قرض کے تین پروگرامز کے علاوہ تقریبا ایک درجن سے زائد پروگرامز ادھورے رہ گئے، کیونکہ پاکستانی حکومت اقتصادی اصلاحات کے مشکل فیصلے کرنے سے گریز کرتی رہی۔ مگر اس مرتبہ آئی ایم ایف پروگرام بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہے۔ حکومت نے ہمّت کرکے جو مشکل معاشی فیصلے کیے اس سے شاید سیاسی مقبولیت میں تو کمی ہوئی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان فیصلوں کی وجہ سے ملکی معیشت میں میکرو اکنامک استحکام دیکھا گیا۔ اور یہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کی صورت میں نظر آرہا ہے۔
حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے افراط زر کو کنٹرول کرنے کے بعد بنیادی شرح سود میں نمایاں کمی کی ہے اور توقع ہے کہ اگر خلیج میں حتمی امن معاہدہ ہو جاتا ہے تو اس سے پاکستان کو مزید معاشی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ مگر اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں میں جنریشن زی کی آمد ہوا کے ایک نئے جھونکے کی مانند ہے۔
اسٹاک مارکیٹ میں جنریشن زی کی انٹری
پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے یہ طے کیا تھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کرنے والے اکاؤنٹس کی تعداد میں پانچ گنا اضافہ کیا جائے گا اور اسے 5 لاکھ سے بڑھا کر 25 لاکھ کیا جائے گا۔ اسی مقصد کے لئے گزشتہ سال سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے ایک اہم فیصلہ لیا۔ جس کے اثرات یا ثمرات اب مارکیٹ پر دیکھے جارہے ہیں۔ نوجوانوں کو کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنے کے لئے ایس ای سی پی نے خصوصی راہ نما اصول جاری کیے تھے۔
ایس ای سی پی نے سینٹرل ڈیپازیٹری کمپنی کو 18 سال سے کم عمرنوجوانوں کے اکاؤنٹ کھولنے کی مشروط اجازت دی تاکہ نوجوان نسل جنریشن زی اور جنریشن الفا بھی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرے سکے۔ اس حکمت عملی کے اثرات سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں اضافے پر نظر بھی آئے اور تقریباً نئے کھولے جانے والے اکاؤنٹس میں سے تقریباً 40 فیصد اکاؤنٹس بنانے والے جنریشن زی میں شمار ہوتے ہیں۔ یعنی ان کی عمر 18 سے 30 سال ہے۔ اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سرمایہ کاری اکاؤنٹس کھولنے کا بھی طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے۔ اور اب یہ اکاؤنٹس موبائل ایپس کے ذریعے بھی کھولے جاسکتے ہیں۔
معروف سرمایہ کار عقیل کریم ڈھیڈی کہتے ہیں کہ سال 2016ء تک اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ تک تھی جو سال 2024ء میں بڑھ کر ڈیڑھ لاکھ ہو گئی۔ جس کے بعد تیزی سے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا رجحان بڑھا اور اس وقت سرمایہ کاری کرنے والے اکاؤنٹس کی تعداد چھے لاکھ سے زائد ہے۔ یعنی جتنے اکاؤنٹس اسٹاک مارکیٹ کے بعد سے نہیں کھلے تھے، اس سے کہیں گنا زیادہ سرمایہ کاروں نے اکاؤنٹس گزشتہ دو ایک سال میں کھولے ہیں۔ اسی وجہ سے مارکیٹ میں گہرائی بڑھی ہے۔
اسٹاک مارکیٹ میں دوسرے نوجوانوں کے قدم رکھنے سے کاروبار کرنے والے خاندانوں کی نئی نسل کو بھی دل چسپی پیدا ہوئی ہے اور وہ اس کا حصہ بن رہی ہے۔ یہی وہ نئی نسل ہے جو کاروبار میں سیٹھ کلچر کو ختم کرتے ہوئے کارپوریٹ کلچر کی جانب جارہی ہے۔ اس طرح خود کاروبار پر بیٹھنے یا صرف اپنے بھروسے کے بندے کو غلّے پر بٹھانے کی سوچ بھی ختم ہو رہی ہے۔ اس کی جگہ نوجوان نسل کاروبار کو ٹیکنالوجی اور جدید انتظامی اور محفوظ ترین طریقوں کے تحت وسعت دے رہی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو بڑی کمپنیوں کو اسٹاک ایکسچینج میں اپنا اندراج کی جانب راغب کررہی ہے۔
حصص کی اوّلین عوامی فروخت
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ان دنوں سرمایہ کاروں خصوصاً نئے اور نوجوان سرمایہ کاروں کی دل چسپی کی وجہ سے ایک تو سرمایہ کار بیس میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور دوسری طرف مارکیٹ میں لیکوڈٹی میں بہتری آئی ہے۔ یہی چیز کمپنیوں کو اسٹاک مارکیٹ کی جانب راغب بھی کررہی ہے کیونکہ اگر ایک کمپنی کو 8 ارب روپے کا سرمایہ کا اکٹھا کرنا ہے تو اس کو 80 ارب روپے تک کی پیشکشیں موصول ہورہی ہیں۔ جس سے کمپنیوں کو اچھی قیمت پر حصص کی اوّلین عوامی فروخت کا موقع ملتا ہے۔
30 جون 2026ء کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ایس ای سی پی نے ریکارڈ 14 کمپنیوں کو حصص کی اوّلین عوامی فروخت یعنی آئی پی او کی اجازت دی۔ جن میں سے 12 کمپنیوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ کا عمل مالی سال کے اختتام تک مکمل کرلیا۔ کمپنیوں کی یہ لسٹنگ عام اندراج کے علاوہ جی ای ایم بورڈ کے تحت ہوئیں۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں اس سے قبل مالی سال 2021-22ء (FY22) اور مالی سال 2014-15 کے دوران بڑی تعداد میں حصص کی اوّلین عوامی فروخت کی گئی تھیں۔ مگر اس کے بعد معاشی ابتر صورت حال کی وجہ سے سال 2023ء اور 2024ء میں کمپنیوں کی لسٹنگ کا عمل تقریباً رک گیا تھا۔ اس لئے گزشتہ مالی سال کے دوران 14 آئی پی اوز کی منظوری اسٹاک مارکیٹ کی بڑی کام یابی کہی جاسکتی ہے۔
حصص کی اوّلین عوامی فروخت اور کمپنیوں کی لسٹنگ کا عمل جو اس سال دیکھا گیا ہے وہ گزشتہ سالوں میں ہونے والے عمل سے مختلف نظر آرہا ہے۔ حصص کی اوّلین عوامی فروخت میں چھوٹے اور نوجواں سرمایہ کاروں کی دل چسی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پی ایس ایکس کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2024ء میں فی آئی پی او اوسطاً دو ہزار چھوٹے سرمایہ کار آئی پی او کی درخواست دیتے تھے۔ یہ تعداد مالی سال 2026ء میں 4 گنا بڑھ کر اوسطاً 9,008 سرمایہ کار فی آئی پی او تک پہنچ گئی ہے۔
اس کے علاوہ حصص کے لین دین خصوصاً حصص کی اوّلین عوامی فروخت کا عمل بھی آسان کر دیا گیا ہے۔ اب کسی کو آئی پی او کی درخواست کے لئے بینک برانچ جانا نہیں پڑتا بلکہ وہ گھر بیٹھے موبائل ایپ کے ذریعے یہ کام کرسکتا ہے۔ اور 24 گھنٹے میں جب اسے وقت ملے، کرسکتا ہے۔
اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری ہمیشہ رسک کے ساتھ ہوتی ہے۔ مگر تجربے سے یہ ثابت ہوا ہے جس کسی سرمایہ کار نے بھیڑ چال کے بجائے شعبہ جات اور کمپنیوں کی مستقبل کی کارکردگی پر نظر رکھ کر سرمایہ کاری کی ہے اس کے نقصان اٹھانے کے امکانات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ، اور خصوصاً نوجوانوں کا سرمایہ کاری کرنا مارکیٹ کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جا سکتا ہے۔


