لاہور: پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی کی قیمتوں پر حکومت کو خبردار کردیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ لاہور حکومت کو آگاہ کیا گیا تھا کہ بلاضرورت چینی درآمد نہ کی جائے، درخواست کی گئی کہ ایف بی آر پورٹلز کو کھلا رکھا جائے لیکن غیرمعیاری درآمدی چینی بیچنے کی خاطر پورٹلز کو بند کیا گیا جس سے مارکیٹ میں سے چینی کی کمی اور قیمتیں بڑھیں۔
یہ پڑھیں: ’چینی درآمد کرنا کسانوں اور انڈسٹری تباہ کرنے کے مترادف ہے‘
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمتیں بڑھنے کی ذمہ دار، فائدہ وصول کنندہ شوگر انڈسٹری نہیں ہے، سپلائی چین میں خلل سے چینی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ مجبور کررہی ہے صرف حکومتی نامزد کردہ ڈیلرز کو ہی چینی فروخت کی جائے، ان اقدامات کی بدولت مارکیٹ میں چینی کی سپلائی کا بحران پیدا ہورہا ہے۔
گزشتہ ماہ شوگر ملز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ حکومت نے انڈسٹری کی اپیلوں کو یکسر نظر انداز کردیا، 18 نومبر تک ملک میں چینی کے وافر اسٹاکس موجود ہیں۔
ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ شوگر انڈسٹری کو مالی بحران سے نکالن ےکے لیے اسٹاکس کا ختم ہونا ضروری ہے، سیلانی کا پانی نہ اترنے تک گنے کی کٹائی کیسے ممکن ہوپائے گی، درآمدی چینی ٹیکس اور ڈیوٹی فری سبسڈی کے ساتھ منگوائی جارہی ہے۔


