اسلام آباد (8 جون 2026): سپریم کورٹ نے تیزاب گردی سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے تیزاب گردی سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اہم گائیڈ لائنز جاری کر دی ہیں۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم کاکڑ کے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں فیصل آباد کی اقرا پروین پر تیزاب پھینکنے والے مجرم کی درخواست خارج کر دی اور مجرم عبدالمنان کی عمر قید کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے متاثرہ خاتون کو 10 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
فیصلے میں تیزاب گردی کو قتل سے بھی بدتر جرم قرار دیتے ہوئے تیزاب گردی کے متاثرین کو معذور افراد کے کوٹے میں شامل کرنے اور نیشنل ایسڈ سروائر ری ہیبلیٹیشن فنڈ قائم کرنے کے لیے قانون سازی کا حکم دیا گیا ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت متاثرین کیلیے میڈیکل، سرجری، خصوصی فزیکل تھراپی فنڈ مختص کرے اور متاثرین کی سوشل ڈیتھ سے نمٹنے کیلیے نفسیاتی اور سماجی بحالی کے اقدامات کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی تیزاب گردی کے متاثرین کے معاشی تحفظ کیلیے ماہانہ معاوضہ مقرر کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ قومی بحالی ہدایات مرتب کی جائیں، جن میں متاثرین کا تاعمرعلاج و بحالی مختص فنڈز سے ہوسکے۔
عدالت عظمیٰ نے رجسٹرار کو فیصلے کی کاپی تمام ہائیکورٹس سمیت سیکریٹری قانون، چیئرمین قانون و انصاف کمیٹی، تمام صوبائی محکمہ قانون، اٹارنی جنرل اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو بھجوانے کی ہدایات بھی جاری کیں۔


