پیر, اگست 10, 2026
اشتہار

ٹیلی کام بل 2026 : میرے گھر میں میری مرضی یا حکومت کی؟ سوشل میڈیا پر شدید ردعمل

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ترمیمی) بل 2026 ان دنوں شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے، سوشل میڈیا سے لے کر عوامی حلقوں تک اس بل کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 کے تحت ٹیلی کام کمپنیوں کو کسی بھی نجی یا سرکاری عمارت پر بغیر اجازت ٹاورز لگانے اور آپٹیکل فائبر اور دیگر انفرااسٹرکچر نصب کرنے کی مجوزہ اجازت دی گئی۔

مذکورہ ٹیلی کام بل 2026 کیخلاف شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے، لوگوں نے اسے آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور شہریوں کی جائیدادوں پر زبردستی قبضے کی قانونی شکل قرار دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر کے میزبان محمد مالک نے اس اہم معاملے پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا اور دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ مجوزہ قانون سازی آئین میں دیے گئے شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

مذکورہ ٹیلی کام بل 2026 کو قومی اسمبلی نے منظور کردیا ہے جس کے بعد یہ بل سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جس کے مطابق شہری اور سرکاری ادارے اپنی جائیداد ٹیلی کمیونیکیشن انفرااسٹرکچر کے لیے کمپنیوں کو دینے کے پابند ہوں گے بصورت دیگر 5 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

یہ بل وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا جس کے بعد ملک بھر میں نجی ملکیتی حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھڑگئی ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی و ٹیلی کام کے اجلاس میں بل پر کئی اہم سوالات اٹھائے گئے، سینیٹر افنان اللہ اور دیگر ارکان نے بل کی مختلف شقوں پر تحفظات کا اظہار کیا، افنان اللہ کے مطابق حکومت کا مقصد ملک میں فائبرائزیشن کو فروغ دینا ہے۔

ناقدین کے مطابق یہ اصطلاح مبہم ہے اور مختلف سرکاری حکام کو وسیع اختیارات دے سکتی ہے، آئین نجی ملکیت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور کسی بھی قانون کو بنیادی حقوق سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔

اس حوالے سے سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ موجودہ شکل میں بل کے تحت عام شہری پر بھی 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا تھا، کمیٹی اس بل پر مزید ایک سے دو ماہ غور کرے گی اور ضروری ترامیم تجویز کرے گی۔

بظاہر اس مجوزہ قانون کا مقصد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 میں ترامیم کے ذریعے ڈیجیٹل رابطہ کاری کو فروغ دینا، فائبر آپٹک نیٹ ورک کی توسیع کو تیز کرنا اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کی تنصیب کے عمل کو آسان بنانا ہے۔

محمد مالک نے بتایا کہ بل میں شامل مجوزہ شقیں 27-اے اور 27-بی سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، جن کا تعلق نجی اور سرکاری املاک پر ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی تنصیب سے ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ شقیں جائیداد کے مالکان کے اس حق کو محدود کرسکتی ہیں کہ وہ اپنی زمین پر ایسی تنصیبات کی اجازت دیں یا نہ دیں۔

تنازعات اور جرمانوں کی مجوزہ شقیں

بل کے تحت ٹیلی کام کمپنی اور جائیداد کے مالک کے درمیان اختلاف کی صورت میں پہلے مذاکرات کیے جائیں گے، جائیداد کے مالک کو جواب دینے کے لیے 30 روز کا وقت دیا جائے گا۔ اگر اتفاق رائے نہ ہوسکا تو ٹیلی کام آپریٹر یاد دہانی نوٹس جاری کرے گا، جس کے بعد معاملہ ایک نامزد سرکاری افسر کو بھجوایا جاسکے گا، مذکورہ افسر تنازع کا فیصلہ کرے گا اور جائیداد کے استعمال کے عوض کرایہ یا معاوضہ بھی مقرر کرے گا۔

مجوزہ قانون کے مطابق یہ فیصلہ فریقین پر لازم ہوگا جبکہ عدم تعمیل کی صورت میں زمین کے مالک پر بعض حالات میں 5 کروڑ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔

سرکاری املاک پر مفت تنصیب کی اجازت

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں نیٹ ورک کی توسیع کے لیے سرکاری پارکوں اور دیگر عوامی املاک پر اپنا سازو سامان بغیر کسی فیس کے نصب کر سکیں گی تاکہ ملک میں ڈیجیٹل رابطہ کاری کو بہتر بنایا جا سکے۔

آئینی حقوق سے تصادم کے خدشات

مجوزہ ترامیم پر بعض صحافیوں، قانونی ماہرین اور قانون سازوں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، ان کا مؤقف ہے کہ یہ شقیں آئین کے تحت حاصل نجی ملکیتی حقوق سے متصادم ہو سکتی ہیں۔

محمد مالک نے کہا کہ مجوزہ قانون شہریوں کے آئینی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے اور اس میں جائیداد کے مالکان کے تحفظ کے لیے مناسب ضمانتیں موجود نہیں۔

ان کے بقول اگر یہ بل منظور ہو گیا تو نہ ہماری مرضی، نہ ہمارا گھر اور نہ ہی ہماری زمین حقیقی معنوں میں ہماری رہے گی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ معاوضے کی شقوں کے باوجود نجی جائیداد تک لازمی رسائی کا اختیار ملکیتی حقوق کے بنیادی اصول کو کمزور کر سکتا ہے۔

سینیٹ کمیٹی میں بھی اعتراضات

یہ معاملہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے اجلاس میں بھی زیر بحث آیا، جہاں ارکان نے نجی اراضی تک رسائی، ٹیلی کام ٹاورز کی تنصیب اور رائٹ آف وے کی اجازت نہ دینے پر جرمانوں سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔

کمیٹی ارکان نے زور دیا کہ کسی بھی شہری کو واضح قانونی تحفظات، شفاف طریقہ کار اور باہمی رضامندی کے بغیر اپنی نجی جائیداد پر ٹیلی کمیونیکیشن انفراسٹرکچر کی اجازت دینے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

حکومت نے خدشات مسترد کر دیے

اجلاس کے دوران وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے حکام نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ بل نجی جائیداد پر زبردستی قبضے یا ملکیت کی منتقلی کی اجازت نہیں دیتا۔

وزارت کے حکام نے یقین دہانی کرائی کہ نجی ملکیتی حقوق بدستور محفوظ رہیں گے اور انفراسٹرکچر کی تنصیب قانونی طریقہ کار، معاوضے کی ادائیگی اور متعین تنازعاتی نظام کے تحت ہی کی جائے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر بل کی کسی شق میں ابہام موجود ہوا تو اسے پارلیمانی عمل کے دوران مزید بہتر بنایا جائے گا۔

بل کا جائزہ

واضح رہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، جس کی سربراہی پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان کر رہی ہیں، نے بل کی مختلف شقوں پر تفصیلی غورو خوص کیا۔

کمیٹی نے ادارہ جاتی اصلاحات اور ریگولیٹری اختیارات سے متعلق مجوزہ ترامیم کا بھی جائزہ لیا تاہم تفصیلی بحث کے بعد بل پر مزید غور آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔

پارلیمانی جانچ کے مرحلے سے گزرنے والا یہ بل اس وقت قانون سازوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جو ایک جانب ملک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی توسیع اور دوسری جانب شہریوں کے آئینی ملکیتی حقوق کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں