تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر -
The news is by your side.

Advertisement

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر

اسلام آباد : تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ، موجودہ دورے حکومت میں تجارتی خسارے میں دس ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومتی دعووں کی قلعی کھل گئی، تجارتی خسارہ تاریخ کی بلندترین سطح پر پہنچ گیا، ادائیگیوں کا توازن بگڑ گیا۔ درآمدات کنٹرول سے باہر ہوگئیں اور تجارتی خسارے میں سینتیس فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ادارے شماریات کے مطابق تجارتی خسارے کا حجم بتیس ارب پچاس کروڑ ڈالر کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا ہے، اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ مالی سال برآمدات کا حجم بیس ارب پینتالیس کروڑ ڈالر رہا۔ جبکہ درآمدات کا حجم تریپن ارب ڈالر ہوگیا ہے جو کہ گزشتہ مالی سال سے انیس فیصد زائد ہے۔

مالی سال 17- 2016 کے دوران برآمدات میں کمی اور درآمدات میں نمایاں اضافے کے نتیجے میں تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا۔

ادارہ برائے شماریات پاکستان کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق نئے مالی سال 17- 2016 ( جولائی تا جون) کے دوران 20 ارب 44کروڑ 80لاکھ ڈالر کی برآمدات کی گئیں جو گزشتہ مالی سال 16- 2015( جولائی تا جون ) کی 20 ارب 78کروڑ 70 ڈالر کی برآمدات کے مقابلے میں 33 کروڑ 90لاکھ ڈالر کم رہیں۔

اس طرح گذشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات میں 1.63 فیصد کمی واقع ہوئی۔

دوسری جانب ملکی درآمدات مالی سال 17- 2016 ( جولائی تا جون ) کے دوران 53 ارب 2کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہیں ، جو گذشتہ مالی سال ( جولائی تا جون 16- 2015 ) کی 44 ارب 68 کروڑ 50لاکھ ڈالر کی درآمدات کے مقابلے میں 8 ارب 34کروڑ 10 لاکھ ڈالر زائد رہیں ، اس طرح درآمدات میں 18.67 فیصداضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ مالی سال 17- 2016 ( جولائی تا جون ) کے دوران تجارتی خسارہ 23 ارب 89کروڑ 80لاکھ ڈالر تھا ، جو رواں سال ( جولائی تا جون 17- 2016 ) کے 32 ارب 57کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے تجارتی خسارے کے مقابلے میں 8ارب68 کروڑسے زائد رہا ، اس طرح تجارتی خسارے میں 36.32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں