site
stats
بزنس

تجارتی خسارے کا حجم 15 ارب ڈالر ہوگیا

اسلام آباد : رواں مالی سال کےپہلےپانچ ماہ میں ملکی تجارتی خسارے میں مزید اٹھائیس فیصد اضافہ ہوا اور تجارتی خسارے کا حجم پندرہ ارب ڈالر ہوگیا جبکہ اب ڈالر کی قدر میں اضافہ درآمدی سیکٹر کیلئے مزید نقصان دہ ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں مندی زرمبادلہ ذخائر میں کمی روپے کی بے قدری اورتجارتی خسارہ میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، برآمدات میں اضافے کے باوجود تجارتی خسارہ کم نہ ہوسکا اور روپے کی بے قدری سے درآمدی اشیا مزید مہنگی ہوجائیں گی۔

ادارہ شماریات کے مطابق جولائی تا نومبر تجارتی خسارہ پندرہ ارب ڈالر ہوگیا ہے، درآمدات کاحجم اکیس فیصد اضافہ کےساتھ چوبیس ارب ڈالر ہوگیا جبکہ برآمدات میں گیارہ فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور برآمدات کا حجم نو ارب ڈالر رہا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی درآمدی سیکٹر کیلئے منفی ثابت ہوگی، درآمدات مہنگی ہونے سے درآمدی بل بڑھ جائے گا۔

درآمدکنندگان نے اسٹیٹ بینک سے روپے کی قدر میں کمی کا فوری نوٹس لینے مطالبہ کیا ہے جبکہ برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ ڈالرکو کھلی چھوٹ نہ دی جائے، ڈالر مہنگا ہونے سے مہنگائی کا طوفان آئے گا۔


مزید پڑھیں : ڈالر کی قیمت 111 روپے تک جا پہنچی


یاد رہے کہ روپے کی قدر میں مسلسل تیسرے روز بھی کمی دیکھی جارہی ہے، انٹر بینک میں ڈالر 111 روپے کی سطح پر جا پہنچا جبکہ تین روز میں روپےکی قدر پانچ روپے کم ہوچکی ہے۔

ماہرین کاکہناہےکہ آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کی جانب روپےکی قدر میں کمی کا دباؤ تھا۔ حکومت اور مرکزی بینک روپے کی قدر میں بتدریج کمی کا فیصلہ کر چکا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top