The news is by your side.

Advertisement

پاکستان بھارت سے بامعنی مذاکرات چاہتا ہے، ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اوربھارت کے مابین سب سے بڑا مسئلہ کشمیر ہے، لیکن پاکستان چاہتاہے بھارت سے بامعنی مذاکرات ہوں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا روس کے وزیرخارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا ، جس میں شاہ محمود قریشی نے افغان امن عمل کیلئے پاکستان کے کردار سے آگاہ کیا، اس دوران وفود کی سطح پر مذاکرات میں روس اور پاکستان کے تعلقات پر تبادلہ خیال ہوا۔

روسی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے حوالے سے زاہد حفیظ چوہدری نے بتایا کہ روسی وزیرخارجہ نے وزیراعظم اور وزیرخارجہ سے ملاقاتیں کیں، ملاقاتوں میں باہمی تعلقات، علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال ہوااور وزیراعظم نے روسی وزیرخارجہ سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر پر مؤقف واضح کیا جبکہ روسی وزیر‌ خارجہ نے افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔

دسویں ڈی ایٹ کانفرنس سے متعلق ترجمان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کی طرف سے دسویں ڈی ایٹ کانفرنس ورچوئل منعقد کی گئی، وزیراعظم عمران خان نے ڈی ایٹ کانفرنس میں ورچوئل شرکت کی، کانفرنس میں وزیراعظم نے کورونا وبا، عالمی معاشی صورت حال اور بیروزگاری پر بات کی۔

پاکستانی دفترخارجہ نے پاکستانی سفیر اسد مجید کو بدلنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا امریکا میں پاکستانی سفیراسد مجید بہتر کام کر رہے ہیں،ان کو بدلنے کی کوئی اطلاع نہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ پاکستان کی خبریں دیکھی ہیں ، ابھی یہ اطلاعات مکمل معلومات پر مبنی نہیں تاہم یواے ای کی طرف سے پاکستانی ویزوں پرپابندی سے متعلق رابطےمیں ہیں۔

پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے زاہد حفیظ چوہدری نے کہا پاکستان نے بھارت کے ساتھ مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، ہم سمجھتے ہیں عالمی برادری موجودہ تنازع کو مدنظر رکھ کر بات کرے، بھارت کی طرف سے قیدیوں کی رہائی میں ہمیشہ تاخیر کی جاتی ہے ، پاکستان کا مؤقف ہے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی جلد ہونی چاہیے، بھارت سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی پرتاخیرہوتی ہے توہم رابطے کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیابھرمیں ریاستوں کےآپس میں بات چیت کے مختلف طریقے ہوتے ہیں، پاکستان دیکھ رہا ہے آیا بھارت سے بات چیت ہونی چاہیے کہ نہیں ، دونوں ممالک میں امن اور مسائل کے حل کے لئے بات چیت ضروری ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا بھارت ایک قدم بڑھائے پاکستان 2 قدم بڑھائے گا ، پاکستان اوربھارت کے مابین سب سے بڑا مسئلہ کشمیر ہے ، پاکستان چاہتاہے بھارت سے بامعنی مذاکرات ہوں ، موزوں حالات کے لئے بھارت کو 5اگست 2019 کے اقدامات واپس لینا ہوں گے۔

سارک کانفرس سے متعلق زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ سارک سمٹ اورہہائی کمشنرز کی واپسی فی الحال خارج از امکان ہے ، پاکستان دوسال سے سارک کانفرس کے لئے کوشاں ہے، 2017سے سارک کانفرنس نہیں ہوسکی۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اوربھارت کے مابین جموں وکشمیر سب سے بڑا مسئلہ ہے ، دونوں ممالک کے مابین متعدد بار مذاکرات ہوچکے ہیں ، مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں امن ممکن نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں