جمعہ, فروری 6, 2026
اشتہار

پاکستان کا پانی "محاصرے” میں

اشتہار

حیرت انگیز

جب بھارت نے رواں سال کے آغاز میں یہ اعلان کیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کو ”معطل” کر رہا ہے، تو اسلام آباد میں خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھیں۔ چند ہی روز بعد افغانستان کی عبوری حکومت نے کنڑ دریا پر ایک بڑے ڈیم کی تیز رفتار تعمیر کے منصوبے کی تصدیق کر دی۔ واضح رہے کہ یہ وہی دریا ہے جو کابل کا اہم معاون ہے اور جس کا بہاؤ پاکستان میں سندھ کے نظام میں شامل ہوتا ہے۔ 

یہ دونوں اقدامات جنوبی ایشیا میں ہائیڈرو پالیٹکس کے ایک نئے اور نہایت تشویشناک دور کی نشاندہی کرتے ہیں، ایک ایسا دور جس میں پانی اب صرف ایک مشترکہ وسیلہ نہیں رہا بلکہ اسے ممکنہ ہتھیار بھی بنایا جا سکتا ہے۔ اب پاکستان، جس کی بقا کا دار و مدار سندھ بیسن پر ہے، ایک وجودی خطرے سے دوچار ہے۔ کیا وہ اپنا پانی بچا سکتا ہے قبل اس کے کہ اسے روکا جائے؟ اور ایسے خطے میں کس قسم کا دفاع معنی رکھتا ہے جو پہلے ہی تنازعات کی زد میں ہے؟

بھارت کی دھمکی، افغانستان کی اپ اسٹریم سرگرمی، موسمیاتی تبدیلی، اور  اندرونی بد انتظامی، مل کر پاکستان کے پانی کے لیے شدید خطرہ پیدا کرتے ہیں

تاریخی پس منظر۔۔۔۔ ایک کمزور معاہدہ یا ایک مجبوری؟

اگرچہ پاکستان، زیریں سطحی ریاست ہونے کے باوجود، 19 ستمبر 1960 کو عالمی بینک اور امریکہ کے مشورے پر سندھ طاس معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور ہوا، لیکن اس عمل میں اسے تین مشرقی دریاؤں راوی، بیاس اور ستلج کے اپنے قدرتی حقوق سے دستبردار ہونا پڑا۔دنیا نے اسے ”مثالی معاہدہ“ کہا، مگر حقیقت میں یہ پاکستان کی قدرتی ملکیت کا ایک اسٹریٹجک ترکِ دعویٰ تھا۔

اس معاہدے نے مشرقی دریا بھارت اور مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پاکستان کو دیے۔ یہ معاہدہ 1965، 1971 اور 1999 کی جنگوں سمیت بے شمار بحرانوں سے بچ نکلا۔ لیکن اپریل 2025 میں بھارت نے پہلگام میں ایک سیکیورٹی واقعے کے بعد اچانک اسے ”معطل“ قرار دے دیا۔ پاکستان نے اسے ”فالس فلیگ“ قرار دیا اور خبردار کیا کہ سندھ کے پانیوں سے چھیڑ چھاڑ ”جنگی اقدام“ تصور ہو گی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ بھارت کے پاس فی الحال مغربی دریا روکنے کی تکنیکی صلاحیت نہیں، مگر یہ سیاسی پیغام واضح ہے کہ معاہدے کی معطلی انجینئرنگ نہیں، سفارتی دباؤ کا ہتھیار ہے۔

شمال سے نیا خطرہ۔۔۔ کنڑ دریا پر افغانستان کا ڈیم

افغانستان کا کنڑ دریا پر ڈیم کو تیزی سے تعمیر کرنے کا اعلان پاکستان کی تشویش میں مزید اضافہ کر دیتا ہے۔ کنڑ دریا کابل کے سالانہ بہاؤ کا تقریباً تین چوتھائی فراہم کرتا ہے، جو نوشہرہ کے قریب پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور آخر کار سندھ کے نظام سے جا ملتا ہے۔پاکستان کافی عرصے سے کابل کے ساتھ پانی کی تقسیم کا فریم ورک چاہتا تھا مگر آج تک کوئی معاہدہ وجود میں نہیں آ سکا۔ چونکہ پاکستان کے 80 فیصد قابلِ تجدید پانی کی درآمد سرحد پار سے ہوتی ہے، لہٰذا اگر بھارت اور افغانستان دونوں جارحانہ اپ اسٹریم ڈویلپمنٹ پر چل پڑیں تو پاکستان ”دو محاذی پانی کے دباؤ“ کا شکار ہو جائے گا۔

پاکستان کے اندر بڑھتی ہوئی بحث۔۔ پیش بندی، تصادم یا دانش؟

ملک میں یہ بحث شدت اختیار کر رہی ہے کہ کیا پاکستان کو چترال دریا (جو افغانستان میں داخل ہو کر کنڑ بن جاتا ہے) پر کوئی اسٹریٹجک ڈیم تعمیر کر کے پیش بندی کرنی چاہیے؟ لیکن سرحدی علاقوں میں یک طرفہ اقدامات سفارتی کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔ اصل پانی کی جنگ ٹینکوں سے نہیں بلکہ سروے ٹیموں، مشینری اور ایمرجنسی تعمیرات سے شروع ہوتی ہے۔ زیادہ دانشمندانہ راستہ یہ ہے کہ پاکستان پہلے اندرونی طور پر اپنی قوت بڑھائے۔

پاکستان کی اصل طاقت — زیرِ زمین چھپا ہوا ”اسٹریٹجک ذخیرہ“

پاکستان کے دریائی بیسن کے ساتھ ساتھ شدت سے پھیلے ہوئے زیرِ زمین آبی ذخائر دنیا کے سب سے بڑے کنیکٹڈ ایکویفرز میں شمار ہوتے ہیں جن میں تقریباً 400 ملین ایکڑ فٹ پانی موجود ہے۔ معروف ماہرِ آبیات ڈاکٹر حسن عباس اسے پاکستان کا ”اصل اسٹریٹجک ذخیرہ“ قرار دیتے ہیں، نہ اسے بم سے اڑایا جا سکتا ہے، نہ موڑا جا سکتا ہے، نہ sabtoage کیا جا سکتا ہے اور نہ روکا جا سکتا ہے۔

ہوریژنٹل کلیکٹر ویلز جیسے جدید طریقے بڑے شہروں کے لیے پانی کو محفوظ کرنے، خشک سالی میں زراعت کو سہارا دینے اور ایک قومی واٹر ریزرو بنانے میں مدد دے سکتے ہیں وہ بھی بغیر بین الاقوامی تنازعات کے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ زیرِ زمین پانی بھی خطرے میں ہے۔

رومانوی تصورات سے حقیقت نہیں بدلتی۔ پاکستان پہلے ہی 50 فیصد سے زائد زرعی ضرورت اور 70 فیصد شہری ضرورت زیرِ زمین پانی سے پوری کرتا ہے اور یہ نظام تیزی سے دباؤ میں ہے کیوں کہ پانی کی زیادہ مقدار پمپ ہو رہی ہے، سطح آب نیچے جا رہی ہے جس میں نمکین پانی داخل رہا ہے، آرسینک اور نائٹریٹ سے آلودگی بڑھ رہی ہے اور ری چارج بھی کم ہو رہا ہے۔ اگر ری چارج مینجمنٹ، ٹیوب ویلز کا کنٹرول، جدید آبپاشی، فلڈ اسپریڈنگ بیسنز، اور پانی کا سخت حساب کتاب نہ کیا گیا تو یہ ”چھپا ہوا سمندر“ جلد ہی سراب بن سکتا ہے۔

اصل بحران۔۔۔ انتظامی ناکامی

پاکستان اپنے سالانہ پانی کا صرف 10 فیصد ہی ذخیرہ کر پاتا ہے۔ نہری نظام میں 30 فیصد سے زائد پانی ضائع ہو جاتا ہے، لاہور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہر ہر سال مزید گہرے ایکویفر تک بور کر رہے ہیں، چاول اور گنے جیسی فصلیں اب بھی زیرِ آب پٹیوں میں اگائی جاتی ہیں، گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ 1951میں فی کس پانی 5000 مکعب میٹر تھا، آج 900 مکعب میٹر سے بھی کم ”شدید قلت“ کی حد سے نیچے پہونچ چکا ہے۔ ایک آبی افسر کے مطابق ”ہمارا سب سے بڑا ڈیم ہماری نااہلی ہے اور یہ بھی رس رہا ہے۔“

پہلی دفاعی لائن۔۔۔ سفارت کاری

سندھ طاس معاہدہ اپنی خامیوں کے باوجود دنیا کے ایک مستحکم انتظامی نظاموں میں سے ہے۔ یہ اعتماد پر نہیں بلکہ، تصدیق، ثالثی اور طے شدہ حقوق پر قائم ہے۔ یہی نظام بھارت ہی نہیں بلکہ افغانستان کے ساتھ بھی فوری طور پر بحال کرنا ضروری ہے۔ عالمی بینک دوبارہ اس میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ تنازع چھوڑ کر جارحانہ اقدامات اختیار کرنا انتہائی خطرناک ہو گا۔اس کے لیے قابل اعتماد سفارت کاری ہی قومی پانی کے حقوق کا سب سے مؤثر راستہ ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل۔۔ ”کم از کم قابلِ بھروسہ سکت“

بھارت کی دھمکی، افغانستان کی اپ اسٹریم سرگرمی، موسمیاتی تبدیلی اور اندرونی بدانتظامی، یہ سب مل کر پاکستان کے پانی کے لیے شدید خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو Minimum Credible Resilience کی پالیسی اپنانی ہو گی۔ اس کے لیے گھریلو ذخائر میں فوری اضافہ، سائنسی بنیادوں پر ایکویفر ری چارج، سخت کفایتی معیار، قابلِ عمل پانی کی ریگولیشن کے ساتھ سفارت کاری میں مسلسل چوکسی دکھانا ہو گی کیوں کہ پانی اب وراثت نہیں، ایک اسٹریٹجک اثاثہ ہے جسے محفوظ کرنا، بڑھانا اور اس کا دفاع کرنا قومی سلامتی جتنا اہم ہے۔

حل کیا ہو سکتا ہے؟

جنوبی ایشیا میں ہائیڈرو پالیٹکس ایک سخت مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ پاکستان کے لیے نجات نہ تو زور دار بیانات میں ہے اور نہ ہی عجلت میں بننے والے میگا پراجیکٹس میں۔ نجات ہے تو نظم و ضبط پر مبنی پانی کے انتظام میں، دور اندیش سفارت کاری اور زیرِ زمین اور سطحی دونوں اقسام کے پانی میں اسٹرٹیجک سرمایہ کاری میں۔

جیسا کہ ڈاکٹر حسن عباس یاد دلاتے ہیں کہ ”پاکستان کی نجات زیادہ ڈیموں میں نہیں اپنے دریاؤں کے نیچے دیکھنے میں ہے۔“ قبل اس کے کہ دریا خشک ہو جائیں، شاید یہی سب سے محب وطن عمل ثابت ہو۔

(سید خاور مہدی Honor-bound to Pakistan in duty, & Death: Iskandar Mirza- Pkistan’s First Elected President Memoirs From Eixle کے مصنف ہیں، ان کے آرٹیکل مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں)

سید خاور مہدی
+ posts

اہم ترین

مزید خبریں