The news is by your side.

Advertisement

زنگی ناوڑ جھیل کی سیر کو چلیں؟

بلوچستان کے ضلع نوشکی کے جنوب مغرب میں اگر آپ اڑتالیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کریں تو زنگی ناوڑ جھیل پر پہنچ سکتے ہیں۔

کبھی یہ ایک خوب صورت تفریح گاہ تھی اور یہاں پہنچ کر آپ خود کو پُرسکون اور گویا فطرت کے دامن میں پاتے تھے، مگر اب اس کا حسن برباد ہو رہا ہے۔

یہ جھیل قدرت کی صناعی کا ایک شاہ کار ہے جس کی خوب صورتی اور ماحول کبھی تفریح کی غرض‌ سے آنے والوں‌ کے لیے کشش کا باعث تھا۔

پہاڑی راستے، پتھریلی گزر گاہیں، ریت، ہریالی اور جگہ جگہ مختلف چھوٹے بڑے درختوں کے ساتھ پرندے اور ان کی چہچہاہٹ اب بھی آپ کے دل کو ایک عجیب سی خوشی اور ترنگ سے بھر دیتی تھی۔

اگر اس جھیل کی بات کی جائے تو ماضی میں‌ یہاں مختلف خوش رنگ پرندوں کے ساتھ جنگلی حیات بھی دیکھی جاتی تھی۔ مقامی اور دوسرے ملکوں سے ہجرت کرکے یہاں آنے والے آبی پرندوں کی وجہ سے جھیل کا نظارہ دیدنی ہوتا تھا۔ بطخ، چنکارا، ماربلڈ ٹیل، وائٹ ٹیلڈ، کیپونگ، لٹل گریب جھیل کی خوب صورتی بڑھاتے تھے اور افزائشِ نسل بھی کرتے تھے۔ تاہم اب یہاں بہت کم تعداد میں پرندے آتے ہیں جس کی وجہ جھیل میں‌ آلودگی، فضائی اور ماحولیاتی مسائل ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ جھیل 1060 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے اور 12.8 کلو میٹر طویل ہے۔ بارشوں کے بعد اس جھیل میں پانی بھر جاتا ہے اور لوگ اس کا نظارہ کرنے کے لیے آتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اب اس جھیل کا حُسن ماند پڑ چکا ہے اور مناسب توجہ اور دیکھ بھال نہ کیے جانے کی وجہ سے یہ برباد ہو چکی ہے۔

زنگی ناوڑ جھیل میں سال بھر میں اوسطاً 76 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ موسمِ گرما میں یہاں پانی کی سطح کم ہو جاتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں