The news is by your side.

Advertisement

خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والی باہمت خاتون گلالئی اسماعیل کے نام ایک اور ایوارڈ

ممبئی : صوبہ خیبر پختونخواہ میں خواتین کی تعلیم اور صحت کے لیے سرگرم عمل سماجی کارکن اور اویئر گرلز کی بانی گلالئی اسماعیل نے آنا پولیتکوفسکایا ایوارڈ 2017 کا اعزاز حاصل کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق 31 سالہ گلالئی اسماعیل نے موت کے خطرے کی پرواہ کئے بغیر طالبان اور انتہا پسندی کیخلاف بات کی، انتہا پسندی کیخلاف خدمات کے اعتراف میں انھیں آنا پولیتکوفسکایا ایوارڈ 2017 سے نواز گیا۔

اس سال گلالئی اسماعیل اور بھارتی صحافی گوری لنکیش کو یہ ایوارڈ مشترکہ طور دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ گوری لنکیش کو گذشتہ ماہ پانچ ستمبر کو قتل کر دیا گیا تھا۔

اس سال کے انا پولیتکوفسکایا ایوارڈ کا عنوان ’خاموش ہونے سے انکار‘ رکھا گیا تھا جبکہ ایوارڈ دیے جانے کی باقاعدہ تقریب آئندہ برس مارچ میں لندن اور اپریل میں آسٹریلیا میں منعقد ہوگی۔

گلالئی اسماعیل کا کہنا تھا کہ مجھے یہ ایوارڈ انتہا پسندی کے خلاف کوششوں پر دیا گیا ہے، میں کافی عرصے سے انتہا پسندی کے خلاف کام کر رہی ہوں۔ میرا اصل مقصد نوجوانوں کو انتہا پسندی سے بچانا ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ایک ہی وقت میں پاکستان اور بھارت کی خواتین کو یہ ایوارڈ ملنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک ایک ہی جیسی انتہا پسندی اور ایک ہی جیسے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل انا پولیتکوفسکایا ایوارڈ اس سے قبل ملالہ یوسفزئی کو بھی دیا جا چکا ہے۔

گلالئی کو اس سے قبل بھی کئی اعزازات مل چکے ہیں جن میں ڈیموکریسی ایوارڈ 2013 بھی شامل ہے۔ انہیں 30 سال سے کم عمر 30 رہنما نوجوانوں کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا جبکہ پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن نے انہیں ’تبدیلی کا استعارہ‘ قرار دیا۔

خیال رہے کہ ’را ان وار‘ نامی تنظیم کی جانب سے آنا پولیتکوفسکایا ایوارڈ ہر سال دنیا کی اُن خواتین کو دیا جاتا ہے جو انتہا پسندی کے خلاف کام کرتی ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں