The news is by your side.

Advertisement

معروف مصور، قصہ گو اور افسانہ نگار تصدق سہیل انتقال کر گئے

کراچی: پاکستان کے ممتاز مصور اور افسانہ نگار تصدق سہیل کراچی میں انتقال کر گئے۔ وہ کراچی کے علاقے کلفٹن کے ایک اسپتال میں کافی عرصے سے زیر علاج تھے۔

تصدق سہیل سنہ 1930 میں بھارتی شہر جالندھر میں پیدا ہوئے۔ ہجرت کے وقت وہ لاہور آبسے، بعد ازاں اپنے خاندان کے ساتھ کراچی میں مقیم ہوگئے۔

کراچی اس وقت فن و ادب کا مرکز تھا۔ جا بجا فن و ادب اور شاعری کی محفلیں سجتی تھیں۔ تصدق سہیل نے ان محفلوں میں جانا شروع کیا اور یہیں سے ان کا فن قصہ گوئی سامنے آیا۔

سنہ 1961 میں وہ لندن چلے گئے اور یہاں سے انہوں نے مصوری کا آغاز کیا۔

غالب کے مصرعے ’سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوری‘ کے مصداق شروع میں انہوں نے اپنے دوستوں کو متاثر کرنے کے لیے مصوری شروع کی، بعد ازاں مصوری ان کا جنون بن گئی۔

انہوں نے اپنی زندگی میں بے تحاشہ فن پارے تخلیق کیے اور ان کی بے شمار نمائشیں منعقد ہوئیں، تاہم ان کے فن پاروں کا باقاعدہ ریکارڈ نہ رکھا جاسکا۔

ان کی مصوری متنوع موضوعات پر مشتمل تھی اور انہوں نے برہنہ اجسام سے لے کر فطرت کے مناظر تک تخلیق کیے۔

تصدق سہیل مصوری میں مغربی مصوروں پکاسو اور وان گوگ سے متاثر تھے جبکہ پاکستانی مصوروں میں کولن ڈیوڈ، صادقین اور بھارتی مصورہ امرتا شیر گل سے متاثر تھے۔

تصدق سیل نے تجرد کی زندگی گزاری۔ وہ اس سے قبل اسلام آباد کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے جہاں سے ان کی حالت مزید خراب ہونے پر انہیں کراچی منتقل کیا گیا جہاں وہ کل شام 87 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں