پرس فروخت کرنے سے عالمی تن ساز بننے تک کا سفر آسان نہیں تھا، عبدالمالک -
The news is by your side.

Advertisement

پرس فروخت کرنے سے عالمی تن ساز بننے تک کا سفر آسان نہیں تھا، عبدالمالک

کراچی: پاکستانی کے مایہ ناز تن ساز عبدالمالک نے کہا ہے کہپرس فروخت کرنے سے عالمی تن ساز بننے تک کا سفر آسان نہیں تھا،اے آر وائی نیٹ ور کے چیف ایگزیکٹو سلمان اقبال کے تعاون پر اُن کا شکر گزار ہوں، اُن کا جذبہ حب الوطنی ہم سب کے لیے قابل فخر ہے، میری ساری فتوحات کا سہرا پاکستان کو جاتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اے آر وائی نیوز کے دفتر آمد اور خصوصی انٹرویو کے موقع پر کیا۔

پاکستانی شہری عبدالمالک نے لاس ویگاس میں منعقدہ امریکی ایونٹ مسل مینیا 2015ء میں گولڈ میڈل اور ٹرافی جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا،اس ٹائٹل کے حصول کے لیے دنیا بھرسے 500 تن سازوں (باڈی بلڈرز) نے شرکت کی۔

پاکستانی تن سازنے اپنے سفر کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے پرس کی فروخت سے عالمی دنیا تک رسائی کوئی آسان سفر نہیں تھا تاہم میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر مقام پر پاکستان کا نام روشن کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ’’میری فتح اور حاصل کی گئی ٹرافیز، میڈلز پاکستانی ہونے کی وجہ سے حاصل ہوئے کیونکہ میری پہچان پاکستان ہے اور ہر مقام پر میں نے اپنے ملک کی نمائندگی کی‘‘۔


پڑھیں: ’’ امریکا میں ایک پاکستانی تن ساز نے مسل مینیا کا ٹائٹل جیت لیا ‘‘


 عبدالمالک کا کہنا تھا کہ ’’میرے لیے وہ لمحات بہت یادگار اور فخریہ ہوتے ہیں جب عالمی سطح پر پاکستانی پرچم لہرانے کا موقع ملتا ہے، اس لیے میں ہر جگہ فخر سے اپنے قومی جھنڈے کے ساتھ ہی جاتا ہوں‘‘۔عبدالمالک بھی دیگر کھلاڑیوں کی طرح پاکستان کی نمائندگی کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اور ملک کا مثبت تصور پیش کرتے ہیں تاہم غربت کے باعث وہ دیگر کھلاڑیوں کی طرح لوگوں کی توجہ حاصل نہیں کرسکے۔

عبدالمالک کا کہنا ہے کہ باڈی بلڈنگ چیمیئن شپ میں تنہا حصہ نہیں لیا تھا بلکہ قوم کے 20 کروڑ لوگوں کی دعائیں میرے ساتھ تھیں،میرے پاس تربیت کے لیے پیسے نہیں اس لیے مخیر حضرات آگے بڑھ کر میری مدد کریں تاکہ آئندہ بھی میں ملک کی بہتر طریقے سے نمائندگی کر سکوں‘‘۔

تن ساز کا کہنا ہے کہ ابھی تک میں نے پرس فروخت کرکے پیسے جمع کیے اور اپنی تربیت مکمل کی تاہم اس دوران ملکی سطح پر ہونے والے تن سازی کے مختلف مقابلوں میں حصہ لیتے ہوئے کامیابی بھی حاصل کی اور اُس سے حاصل ہونے والی رقم عالمی سطح پر ہونے والے مقابلے میں لگائی۔

انہوں نے کہا کہ غربت کے باعث تربیت حاصل کرنے میں بہت سی مشکلات درپیش آئیں، اس ضمن میں لوگوں سے قرضہ بھی حاصل کیا تاکہ عالمی سطح پر نمائندگی کرتے ہوئے پاکستانی قوم کو بڑا انعام دے سکوں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں