افغانستان میں پاکستانی شہری کا اغواء، تاوان کا مطالبہ، تشدد کی ویڈیوجادی afghanistan
The news is by your side.

Advertisement

افغانستان میں پاکستانی شہری کا اغواء، تاوان کا مطالبہ، تشدد کی ویڈیوجادی

راولپنڈی : افغانستان میں روزگار کی غرض سے مقیم پاکستانی شہری کو اغوا کر لیا گیا، اغوا کاروں نے تاوان کا مطالبہ کرتے ہوئے شہری پر تشدد کی ویڈیو جاری کردی۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے رہائشی ملک فیض احمد کو افغانستان میں نامعلوم افراد نے اغوا کرلیا ہے اور اغوا کاروں نے اہل خانہ سے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔

جب کہ اغوا کاروں نے شہری کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں اغوا کار شہری کو تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں اور پاکستانی شہری کو لہو لہان دیکھا جا سکتا ہے

ملک فیض احمد کے اہل خانہ نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اپرل 2016 سے افغانستان میں مقیم ہیں جہاں وہ ایک تعمیراتی ادارے میں بطور کنسٹرکشن انجینئر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔

اہل خانہ کے مطابق انہیں 2 ماہ پہلے اغوا کیا گیا تھا اور اغوا کاروں نے ایک کروڑ روپے تاوان طلب کیا اور دھمکی دی کہ اگر تاوان نہیں دیا گیا تو وہ انہیں قتل کردیں گے۔

دوسری جانب اغوا کاروں کے مغوی پرتشدد کی ویڈیو اہل خانہ کومل گئی ہے جس میں ملک فیض احمد پر تشدد کرتے ہوئے دیکھایا گیا ہے اور اس ویڈیو میں مغوی کو زخمی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مغوی ملک فیض احمد کے صاحبزادے ملک فرحان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ والد صاحب جس کمپنی میں ملازمت کرتے تھے وہ بھی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ہے جب کہ والد کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں رٹ دائر کر رکھی ہے.

مغوی کے بیٹے ملک فرحان نے اہل اقتدار و اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ ہماری درخواست پر عمل کرتے ہوئے میرے والد کو رہائی دلائی جائے اور ان کی باحفاظت واپسی کے انتظامات کیے جائیں.

ذرائع کے مطابق پاکستان نے فیض ملک کی بازیابی کا معاملہ افغان حکام  کے ساتھ اٹھایا ہے اور دفترخارجہ و افغانستا ن میں پاکستانی سفارت خانہ بھی افغان حکام  سے مسلسل رابطے میں ہے تاہم افغان حکام کی جانب سے ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے البتہ ان کا کہنا ہے کہ فیض ملک کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوششیں کریں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں