The news is by your side.

Advertisement

زینب کے قتل نے پاکستانی کرکٹرز کے دل بھی دہلا دیئے

کراچی : قصور میں پیش آنے والے اندوہناک واقعے پر پاکستانی کھلاڑی بھی اپنے غم کو نہ چھپا سکے، قومی کرکٹرز محمدعامر، وہاب ریاض، محمدحفیظ، وسیم اکرم اور شاہد آفریدی  نے بھی قصور واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعےمیں ملوث افراد کوسخت سزا دی جائے۔

تفصیلات کے مطابق قصور واقعے نے انسانیت کو جھنجھوڑ دیا، سب کی آنکھیں نم اور افسوسناک واقعے نے دل ہلادئیے، پاکستانی کرکٹرز محمدعامر، وہاب ریاض، محمد حفیظ، وسیم اکرم اور شاہد خان آفریدی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس حوالے سے پاکستانی فاسٹ بالر محمد عامر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر قصور واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعہ پرمیرادل ٹوٹ گیا، واقعےمیں ملوث افراد کوسخت سزاملنی چاہیے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈر محمد حفیظ نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کوواقعےمیں ملوث افرادکوسخت سزادینی چاہیے، ایک باپ ہوں سوچ کرتکلیف ہورہی ہے۔

پاکستانی بالر وہاب ریاض نے قصور میں بچی کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دعا ہے اللہ پاک بچی کےوالدین کوصبردے، ایسے واقعات سےبچنے کیلئے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔

کرکٹراظہرعلی نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قصورواقعے پر بہت دکھ ہوا، متاثرین کوانصاف دلایا جائے۔

وقار یونس نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام کا سر قصورواقعے کا سن کرشرم سے سرجھک گیاہے ، انہوں نے کہا کہ قصورواقعے میں ملوث افراد کو پھانسی دی جائے۔

پاکستانی آل راؤنڈر کھلاڑی شاداب خان نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا کہ ’بچے اللہ کی رحمت ہوتے ہیں، زینب کا حادثہ انسانیت پر حملہ ہے، ہمیں لازمی آواز اٹھانی ہوگی۔

علاوہ ازیں قومی ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے بھی اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ میرےپاس الفاظ نہیں، ہم سب بہت غمزدہ اوردل شکستہ ہیں،7سال کی معصوم زینب سے ہم سب معذرت خواہ اور شرمسار ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ قاتلوں کو پکڑکر پھانسی دینی چاہیے۔

معصوم بچی زینب کے قتل کے واقعے پرشاہد آفریدی نے ٹوئٹ کیا کہ آج ہم سب کیلئے ایک شرمناک دن ہے
قاتلوں کو نہ صرف پھانسی بلکہ مثالی سزا دی جائے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کےحکمرانوں! ہم ایکشن کے منتظرہیں۔

یاد رہے کہ قصور میں کمسن زینب کو چار روز قبل اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد سفاک درندوں نے بچی کو زیادتی  نشانہ بنا کر قتل کردیا ، واقعہ کیخلاف شہری سراپا احتجاج بن گئے۔

اس دوران پولیس کی اسٹیٹ فائرنگ سے دو افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوگئے، شہرمیں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاج کا سلسلہ دن بھر جاری رہا، دکانیں، مارکیٹس ودیگرتجارتی مراکزبھی بند رہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر ضرور شیئر کریں۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں