The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی انجینئر نے کششِ ثقل کے نظریے کوغلط قراردے دیا: اشتہار

لاہور: مقامی اخبار میں چھپنےوالے اخبارمیں شائع ہونے والے ایک اشتہارمیں خود کو انجینئر ظاہر کرنے والے شخص کا دعویٰ ہے کہ نیوٹن کا کشش ثقل کا قانون اورآئن اسٹائن کی ثقلی لہروں کی تھیوری پرہونے والی تمام ترتحقیق غلط ہے۔

اردو اخبار روزنامہ خبریں میں 18 فروری کو شائع ہونے والے اشتہارمیں لاہورکے رہائشی فرید اخترنامی انجینئر نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’ثقلی لہروں پر ہونے والی حالیہ تحقیق غلط ہے اور کشش ثقل نامی کسی شے کا وجود نہیں جسے وہ ایک لیکچرکے ذریے ثابت کرسکتے ہیں‘‘۔

فرید نامی اس انجینئرنے نہ صرف یہ کہ دعویٰ کیا ہے بلکہ اپنے دوٹیلی فون نمبراورایک ای میل ایڈریس بھی دیا ہے جس کے ذریعے لوگ ان سے رابطہ کرکے کششِ ثقل کے بارے میں جان سکتے ہیں۔

سائنسسدانوں نے فزکس اورفلکیا ت کے میدان میں تاریخ ساز کامیابی حاصل کرتے ہوئے خلامیں کشش ثقل کی لہروں کے اخراج کی نشاندہی کرلی ہے، واضح رہے کہ آئن اسٹائن کے عمومی اضافیت کے نظریے میں ان لہروں کی موجودگی کے بارے میں انکشاف کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق خلا میں کشش ثقل کی لہروں کی تلاش کے لیے جاری عالمی کوششوں سے منسلک سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے کشش ثقل کو مکمل طور پرسمجھنے کے سلسلے میں ایک چونکا دینے والی دریافت کی ہے۔

ان کے مطابق انہوں نے زمین سے ایک ارب نوری سال سے زیادہ مسافت پرواقع دو بلیک ہولز کے تصادم کی وجہ سے اسپیس ٹائم میں تبدیلی کا مشاہدہ کیا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کشش ثقل کی ان لہروں کی پہلی مرتبہ نشاندہی سے علم فلکیات میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔

واضح رہے کہ ایک صدی قبل مشہورسائنسدان البرٹ آئن اسٹائن نے ان لہروں کی موجودگی کے بارے میں پیشن گوئی کی تھی، تاہم کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی تلاش کے باوجود ایسی لہروں کی نشاندہی نہیں ہوسکی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں