جمعہ, مارچ 6, 2026
اشتہار

سلونی: پاکستانی فلموں کی کام یاب اداکارہ

اشتہار

حیرت انگیز

سلونی کی آخری فلم امیر تے غریب 1979ء میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی۔ اس کے بعد انھیں فلمی پردے پر نہیں‌ دیکھا گیا۔ ماضی کی اس معروف اداکارہ نے اپنے کیریئر میں اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں بننے والی فلموں میں کام کرکے نام بنایا تھا۔ آج وہ ماضی کا ایک بھولا بسرا نام ہیں۔

اداکارہ سلونی نے 1964ء سے 1979ء تک کئی کام یاب فلمیں کیں۔ ان پر فلمائے ہوئے گیت بھی بہت مقبول ہوئے۔ پاکستانی فلموں کی اس معروف اداکارہ کا انتقال 14 اکتوبر 2010ء کو ہوا۔ ان کی موت کا سبب جگر کی خرابی تھی۔ سلونی لاہور سے اپنی بیٹی کو ملنے کراچی آئی تھیں جہاں ان کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔

26 اپریل 1950ء میں راولپنڈی میں آنکھ کھولنے والی زہرہ بیگم نے فلمی دنیا میں سلونی کے نام سے خود کو متعارف کروایا تھا۔ مشہور فلم ساز فضل احمد کریم فضلی نے سلونی کو اپنی فلم میں سائڈ رول کے لیے منتخب کیا تھا، لیکن اس فلم کی ریلیز سے قبل 1964ء میں ’’غدار‘‘ ریلیز ہوئی جس میں سلونی نے کام کیا تھا۔ یوں سلونی کا فلم بینوں سے پہلا تعارف اسی فلم کے ذریعے ہوا۔ اپنے فلمی کیریئر میں سلونی نے 67 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں 36 اردو اور 31 فلمیں تھیں۔ ان کی کام یاب فلموں میں کھوٹا پیسا، عادل، باغی سردار، حاتم طائی، درندہ، چن مکھناں، دل دا جانی، لٹ دا مال، بالم، چھین لے آزادی سرفہرست ہیں۔ سلونی ایک باصلاحیت اداکارہ تھیں جنھوں نے اس وقت فلمی دنیا چھوڑ دی تھی جب ان کی فلمیں کام یاب ہورہی تھیں۔

سلونی کو فلمی دنیا میں بہت احترام اور عزّت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، اور یہی وجہ تھی کہ اداکارہ نے خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھایا تو فلمی دنیا میں بھی حیرت کا اظہار کیا گیا۔ یہ جون 1970ء کی بات ہے، جب اداکارہ سلونی اس وقت کے فلم ساز اور ہدایت کار باری ملک کے عشق میں مبتلا ہوگئی تھیں اور اس میں ناکامی پر دل برداشتہ ہوکر اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم بروقت طبی امداد اور علاج سے ان کی زندگی بچا لی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد باری ملک نے سلونی سے شادی کر لی۔ یوں وہ باری ملک کی دوسری بیوی بنیں۔ باری ملک اور سلونی نے فلم انڈسٹری چھوڑنے کے بعد تقریباً 25 برس متحدہ عرب امارات میں گزارے جہاں باری ملک نے اپنا کاروبار جمایا تھا۔ باری ملک نے فلم انڈسٹری سے وابستگی کے دنوں میں‌ 1956ء میں بطور فلم ساز سب سے پہلے ایک ادارے کے تحت پہلی فلم ”ماہی منڈا” بنا کر کام یابی حاصل کی تھی۔ بعد میں‌ ان کی دوسری فلمیں بھی کام یاب ہوئی تھیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں