The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی فلمیں رواں‌ برس بھی حوصلہ افزاء کارکردگی نہ دے سکی

لاہور : رواں برس بھی پاکستانی فلم انڈسٹری عوام کے دل جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی تاہم کچھ فلمیں ایسی تھیں جنہوں نے باکس آفس خوب پذیرائی حاصل کی۔

تفصیلات کے مطابق رواں سال بھی پاکستانی فلم انڈسٹری وہ کامیابیاں نہیں سمیٹ سکی جس کا سال کے شروع میں دعویٰ کیا گیا تھا البتہ کچھ فلمیں شائقین کے دلوں میں گھر کرنے میں ضرور کامیاب ہوئیں ہیں۔

سنہ 2019 میں جتنی فلمیں بنانے اعلان کیا گیا تھا ان کی تعداد 30 سے زائد تھی لیکن عملی طور پر پورے سال میں جن فلموں کو نمائش کےلیے پیش کیا گیا ان کی تعداد صرف 23 تھی۔

جنوری سے اپریل تک کل 6 فلمیں ریلیز کی گئیں جن میں جیک پاٹ، لال کبوتر، شیر دل، جنون عشق اور پروجیکٹ غازی شامل ہیں لیکن باکس آفس پر صرف دو فلمیں لال کبوتر اور شیر دل کامیاب رہی۔

رپورٹ کے مطابق شائقین کی جانب سے فلم لال کبوتر اس قدر پسند کیا گیا کہ اسے سال کی 3 بہترین فلموں میں شمار کیا جاسکتا ہے جبکہ لال کبوتر کی رواں برس آسکر کے لیے بھیجی جانے والی آفیشل نامزدگی بھی ہوئی۔

خیال رہے کہ یہ اب تک کئی غیر ملکی فلمی فیسٹیولز میں اعزازات بھی سمیٹ چکی ہے جو خالصتاً مقامی رنگ میں رنگی پاکستانی فلم تھی جس میں کراچی شہر کے مقامی مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔

مئی سے اگست کے درمیان نمائش کے لیے پیش ہونے والی فلموں کی کل تعداد 11 رہی جن میں چھلاوا، رونگ نمبر 2، کتہ کشا، باجی، ریڈی اسٹیڈی گو، تم ہی تو ہو، تیور، ہیر مان جا، پرے ہٹ لو اور سپر اسٹار شامل ہیں۔

ان میں سے چھلاوا، رونگ نمبر 2، پرے ہٹ لو اور سپر اسٹار نے باکس آفس پر نمایاں کامیابی حاصل کی جبکہ تیسرے اور آخری حصے میں کل 6 فلمیں نمائش کےلیے پیش کی گئیں جن میں دال چاول، درج، کاف کنگنا، تلاش، سچ اور بے تابیاں شامل ہیں۔

سال کے تیسرے حصے میں کوئی بھی فلم باکس آفس پر نمایاں کامیابی حاصل نہ کرسکی اور تمام ہی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

سال 2019 میں ریلیز ہونے والی دیگر فلمیں خاص کمائی نہیں کرسکیں بلکہ بہت ساری فلمیں تو اپنا خرچہ بھی نہیں نکال پائیں۔

رپورٹ کے مطابق 2020 کے لیے جن کی فلموں کی نمائش کا اعلان کیا گیا ہے ان میں دی لیجنڈ آف مولا جٹ اور زندگی تماشا جیسی اہم فلمیں بھی شامل ہیں۔

آئندہ برس ریلیز ہونے والی فلموں کی تعداد 50 کے لگ بھگ ہے لیکن جس طرح اس سال تمام فلمیں ریلیز نہیں ہوسکیں، اگلے سال بھی سب فلموں کی نمائش ممکن ہوتی دکھائی نہیں دے رہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں