The news is by your side.

Advertisement

دیہی زندگی اور حُسنِ فطرت کے دلدادہ غلام رسول کی برسی

غلام رسول پاکستان میں مصوری کے میدان اور فائن آرٹ کے شعبے کا ایک بڑا ہے جو 3 دسمبر 2009ء کو یہ دنیا چھوڑ گئے تھے۔ ان کا تعلق جالندھر سے تھا۔

غلام رسول 20 نومبر 1942ء کو پیدا ہوئے تھے۔ 1964ء میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فنونِ لطیفہ سے ایم اے کی سند حاصل کرنے والے غلام رسول نے اسی شعبے میں تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکا چلے گئے۔

وہاں مُو قلم اور رنگوں کی دنیا میں گم رہنے والے غلام رسول نے اس فن میں اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔ 1972ء میں انھوں نے فائن آرٹس میں امریکا سے ڈگری حاصل کی اور 1974ء میں پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس سے وابستہ ہوگئے اور ڈائریکٹر جنرل کے عہدے تک ترقی کی۔

غلام رسول نے لینڈ اسکیپ مصوری میں خاص کام کیا اور پنجاب کی دیہی زندگی کو اپنے کینوس پر اتارا۔ انھوں نے دیہاتی ماحول اور فطرت کے حسن کو نہایت خوبی اور فنی مہارت سے کینوس پر منتقل کیا۔ فطرت اور دیہی زندگی سے متعلق ان کے فن پارے بے حد متاثر کن ہیں۔

مصوری کے شعبے میں غلام حسین کو ان کے کام اور خدمات کے اعتراف کے طور پر حکومتِ پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی عطا کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں