ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد یو اے ای سے خام تیل لانے والا پاکستانی جھنڈا بردارجہاز آبنائے ہرمز سے گزر گیا۔
تفصیلات کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدہ صورتحال اور عالمی پابندیوں کے باوجود پاکستان کے لیے توانائی کی ترسیل کا عمل کامیابی سے جاری ہے۔
متحدہ عرب امارات سے خام تیل لے کر آنے والا پاکستانی جھنڈا بردار جہاز ‘شالامار’ آبنائے ہرمز کے بحرانی راستے سے بخیر و عافیت گزر کر خلیج سے باہر نکل گیا ہے۔
سمندری ٹریفک پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی اداروں ‘ایل ایس ای جی’ اور ‘کیپلر’ کے مطابق، یہ ٹینکر جمعرات کے روز آبنائے ہرمز سے گزرا۔
‘شالامار’ ابوظبی سے روانہ ہوا تھا اور اس میں تقریباً 4 لاکھ 40 ہزار بیرل خام تیل موجود ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، یہ جہاز 19 اپریل کو کراچی کی بندرگاہ پہنچے گا جس سے ملک میں تیل کی سپلائی کو مزید استحکام ملے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شالامار ان دو پاکستانی جہازوں میں سے ایک تھا جو گزشتہ اتوار کو تیل کی مصنوعات لینے کے لیے آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے تھے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق، خطے میں جاری کشیدگی اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے بعد، پاکستانی پرچم والا یہ جہاز اس اہم ترین سمندری راستے سے باہر نکلنے والا پہلا کیریئر بن گیا ہے۔
پاکستان کے وزیرِ پٹرولیم نے تصدیق کی ہے کہ ٹینکر نے یو اے ای سے کامیابی کے ساتھ خام تیل حاصل کر لیا ہے، یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکی بحریہ نے خطے میں سخت مانیٹرنگ شروع کر رکھی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، ناکہ بندی کے ابتدائی 72 گھنٹوں کے دوران کم از کم 14 بحری جہازوں کو روک کر واپس بھیجا گیا ہے، تاہم پاکستانی جہاز اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشکل حالات میں تیل کی اس کھیپ کی محفوظ ترسیل پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


