جمعرات, دسمبر 11, 2025
اشتہار

استنبول مذاکرات کے دوران افغان طالبان کی جارحیت، پاک فوج کا منہ توڑ جواب، فائربندی کیلئے منتیں

اشتہار

حیرت انگیز

چمن : چمن بارڈر پر افغانستان کی جانب سے بلااشتعال فائرنک کی گئی، جس کے نتیجے میں پاکستانی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کا بھرپور جواب دیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور استنبول میں جاری ہے، مذاکرات ثالثوں کی موجودگی میں ہورہے ہیں، لیکن مذاکرات کے باوجود افغان طالبان کی جارحیت جاری ہے۔

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس پر پاک فوج نے مؤثر اور دندان شکن جواب دیا۔

ذرائع نے بتایا کہ افغان طالبان نے چمن بارڈر کے قریب کلی مازل گاؤں میں علاقہ مکینوں کو ڈھال بنا کر پاکستانی چوکیوں پر فائرنگ کی۔

تاہم پاک فوج کے بھرپور جوابی اقدام کے بعد افغان اہلکار پسپا ہوگئے اور افغان حکام فائربندی کیلئے منتیں کرنے لگے۔

افغان طالبان کے فرار ہونے کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔، جس میں افغان اہلکاروں کے پیچھے ہٹنے اور شہریوں کے تبصرے سنے جا سکتے ہیں، فوٹیج بنانے والوں کا کہنا تھا کہ "ایک طرف مذاکرات کرتے ہیں اور دوسری طرف حملے، لیکن جب پاک فوج جواب دیتی ہے تو بھاگ جاتے ہیں۔”

بعدازاں افغان حکام نے فائربندی کے لیے رابطہ کر کے واقعے کو "غلط فائرنگ” قرار دیا، افغان طالبان حکام کا کہنا تھا کہ "فائرنگ غلطی سے ہوئی، وجوہات معلوم کر رہے ہیں۔”
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے فائربندی کی خلاف ورزی کی۔ بیان میں کہا گیا کہ "افغانستان کی جانب سے کچھ عناصر نے چمن سرحد پر پاکستانی پوسٹوں پر فائرنگ کی، جس کا فورسز نے فوری اور ذمہ دارانہ ردعمل دیا۔”

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ فائرنگ افغانستان کی جانب سے شروع ہوئی تھی، جس کا پاکستان نے صرف جوابی اقدام کیا ، پاک افغان سرحد پر جنگ بندی بدستور برقرار ہے اور پاکستان استنبول مذاکرات کے تسلسل اور امن عمل کے لیے پرعزم ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں