site
stats
پاکستان

طیب اردگان کی آمد، پاک ترک اسکول بند اور عملے کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: طیب اردگان کی آمد سے قبل ملک بھر میں قائم فتح اللہ گولن گروپ کے تحت چلنے والے تعلیم اداروں کو بند اور اساتذہ کو ملک چھوڑنے کا حکم نامہ جاری کردیا گیا، خلاف ورزی کرنے والے افراد کو ملک بدر کردیا جائے گا۔

ذرائع وزاتِ داخلہ کے مطابق ترک صدر طیب اردگان کی آمد سے قبل ملک بھر میں فتح اللہ گولن گروپ کے تحت چلنے والے 23 پاک ترک اسکولوں کو بند کرنے اور اساتذہ کو ملک بدر کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملک بھر میں قائم پاک ترک اسکولوں کو فتح اللہ گولن گروپ کی سربراہی حاصل ہے۔ جس میں 108 ترک اساتذہ تعینات ہیں۔

پاک ترک اسکولوں میں تعینات ٹیچرز کے خاندان سے تعلق رکھنے والے 400 افراد بھی ملک کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جنہیں 20 نومبر تک ملک چھوڑنے کا حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے۔


پڑھیں:  ’’ ترک صدر 2روزہ دورے پر اگلے ہفتے پاکستان آئیں گے ‘‘


وزارتِ داخلہ کے ذرائع کہا ہے کہ اساتذہ اور اُن کے اہل خانہ اگر حتمی تاریخ تک ملک نہیں چھوڑیں گے تو انہیں ملک بدر کردیا جائے گا جس کے لیے وزارتِ داخلہ نے امیگریشن حکام کو مراسلہ جاری کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: ’’ ترکی: ناکام فوجی بغاوت،باغیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز ‘‘


یاد رہے ترکی میں فوجی ناکام فوجی بغاوت کے بعد حکومت کی جانب سے فتح اللہ گولن اور حامیوں کے خلاف اقدامات کیے جارہے ہیں جس کے تحت اب تک سینکڑوں افراد کو سرکاری اور فوجی نوکریوں سے ہٹایا گیا ہے۔

دوسری جانب ترک حکومت نے امریکا میں مقیم فتح اللہ گولن کی حوالگی سے متعلق سابق صدر بارک اوباما سے درخواست کی گئی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top