پیر, اگست 10, 2026
اشتہار

جب ایک بزرگ عالِم نے برہم ہو کر بادشاہ اکبر کے سَر پر عصا مارا

اشتہار

حیرت انگیز

اکبر 1543ء میں‌ پیدا ہوا اور تیرہ برس کی عمر میں‌ تخت نشین ہوا۔ اٹھارہ بیس برس تک اس کا یہ حال تھا کہ جس طرح سیدھے سادے، خوش اعتقاد اور پابندِ مذہب تُرک کرتے ہیں، اسی طرح ارکانِ مذہب کی وہ بھی دل و جان سے بجا آوری کرتا۔

اس نے باپ کی صحرا نوردی کے زمانے میں دنیا کا سرد گرم چکھا تھا اور طبیعت میں سوز و گداز اور روحانی رنگ پیدا ہو گیا تھا۔ جب بارہ برس کی مایوسی اور سرگردانی کے بعد پھر تاج و تخت نصیب ہوا تو گردن خود بخود ربِّ کارساز کے سامنے سجدۂ شکر میں جھک جاتی۔
شاہانِ سُور نے علما کو بڑا زور و اقتدار دے رکھا تھا۔ اس میں ملکی مصلحتیں بھی تھیں اور طبیعت کا لگاؤ بھی۔ اکبر نے یہ سلسلہ اور وسیع کر دیا۔ جا بجا قاضی و مفتی مقرر کیے۔ مخدوم الملک شیخ الاسلام کی قدر و منزلت بڑھا دی اور صدر الصدور کو وہ اختیار دیے کہ اس سے پہلے کبھی نہ ملے تھے۔ مخدوم الملک تو امورِ ملکی میں اس کے مشیر اور رکنِ سلطنت تھے۔

صدر الصدور شیخ عبدالنبی کا بھی وہ دل و جان سے معتقد تھا۔ کبھی کبھی حدیث سننے ان کے گھر جاتا۔ ایک دفعہ جوتے ان کے سامنے اُٹھا کر رکھے۔

اکبر کا جو اپنا رنگِ طبیعت تھا وہ خانگی اثرات سے اور گہرا ہو گیا۔ ایک دفعہ اس کا عالمِ شباب تھا۔ جشنِ سال گرہ کی تقریب پر لباسِ زعفرانی پہن کر مجلسرائے سے باہر آیا۔ صدر الصدور شیخ عبد النبی نے (جنھیں بعد میں شہادت نصیب ہوئی) سرِ دربار ٹوکا اور اس شدت کے ساتھ کہ عصا کا سرا بادشاہ کو جا لگا۔ اکبر چپ ہو رہا۔ لیکن اندر جا کر ماں سے شکایت کی۔ ماں نے کہا کہ بیٹا یہ رنج کا مقام نہیں باعثِ نجات ہے۔ کتابوں میں لکھا جائے گا کہ ایک بوڑھے عالم نے اتنے بڑے بادشاہ کو عصا مارا اور وہ فقط شرع کے ادب سے صبر کر کے برداشت کر گیا۔

(برصغیر کی مسلم ثقافتی تاریخ پر مستند اور معیاری کتابوں‌ کے مصنف، مشہور مؤرخ اور تذکرہ نگار شیخ محمد اکرام کی کتاب رودِ کوثر سے اقتباسات)

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں