مانچسٹر بم دھماکا، طبی امداد دینے والے پاکستانی نژاد ڈاکٹر کو نسلی تعصب کا سامنا pakistani
The news is by your side.

Advertisement

مانچسٹر بم دھماکا، طبی امداد دینے میں مصروف پاکستانی سرجن کو نسلی تعصب کا سامنا

مانچسٹر : مانچسٹر خود کش دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو مسلسل 48 گھنٹے تک طبی امداد فراہم کرنے والے پاکستانی نژاد برطانوی سرجن کو نسلی تعصب کا سامنا کرنا پڑگیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستانی نژاد برطانوی سرجن یاسین اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھانے کے بعد گھر کی جانب جارہے تھے کہ ایک برطانوی شخص نے رنگ اور نسل کی بنیاد پر انہیں تنقید اور تضحیک کا نشانہ بنایا۔

سرجن یاسین کے پر دادا 60 کی دہائی میں پاکستان سے ہجرت کرکے برطانیہ مقیم ہوئے تھے اور سرجن یاسین برطانیہ پلے بڑھے، تعلیم حاصل کی، کامیاب سرجن بنے اور برطانیہ میں ہی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھارہے ہیں اس کے باوجود انہیں نسلی تعصب کا نشانہ بنایا گیا۔


*مانچسٹر دھماکا، حملہ آور کی شناخت سلمان عابدی کے نام سے ہوگئی


واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلسل 48 گھنٹے مانچسٹر خود کش دھماکے کے متاثرین کو طبی امداد دینے کے بعد تھکن سے چُور گھر جا رہا تھا تو وین میں سوار میں برطانوی شخص نے مجھے مخطاب کرکے غیرمقامی ہونے کے طعنے دیئے، دہشت گرد کہہ کر پکارا اور ناقابل بیان مغلظات بَکیں۔

یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب بھی کوئی خود کش دھماکا یا فائرنگ کا واقعہ ہوتا ہے تو مقامی مسلمان آبادی اور افراد کو اس قسم کی جارحیت اور طعنوں کا سامنا رہتا ہے جس کا عمومی شکار معصوم اور قانون پسند شہری بنتے ہیں۔


*مانچسٹر: نامعلوم افراد کی مسجد کو آگ لگانے کی کوشش


پاکستانی نژاد برطانوی سرجن نے اس نفرت آمیز رویئے کو انفرادی عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان رویوں کا خاتمہ ہونے میں ہی پر امن دنیا کا خواب پنہاں ہے۔

خیال رہے 22 مئی کو مانچسٹر میں معروف امریکی گلوکارہ کے کنسرٹ میں *خود کش دھماکا* ہوا تھا جس کے نتیجے میں 22 افراد جاں بحق اور 59زخمی ہوئے تھے بعز ازاں حملہ آور کی شناخت سلمان عبیدی کے نام سے ہوئ تھی جو لبیا نژاد برطانوی نوجوان تھا جس کے بعد مشتعل افراد نے مانچسٹر کی ایک مسجد کو جلانے کی بھی کوشش کی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں