The news is by your side.

Advertisement

ابرار ترمذی: مصوری، فوٹو گرافی اور موسیقی کا شیدائی

ابرار ترمذی کا خاندانی نام سید ابرار حسین شاہ تھا، لیکن وہ اپنے دوستوں اور آشناؤں میں ابرار شاہ کے نام سے جانا پہچانا جاتا تھا۔

چوں کہ اسے لکھنے لکھانے اور شاعری کا بھی شوق تھا، اس لیے اپنے فن پاروں اور تحریروں میں ابرار ترمذی کا نام استعمال کرتا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ جب وہ برطانیہ آیا تو شروع میں ابرار پاکستانی بھی کہلاتا تھا، لیکن بعد میں ابرار ترمذی یا ابرار شاہ سے ہی پہچانا جاتا تھا۔ معروف صحافی اور ادیب شفیع عقیل کی کتاب سے اس مصور کے بارے میں یہ تحریر آپ کی دل چسپی کے لیے پیش ہے۔

ابرار ترمذی 1938 میں پیدا ہوا۔ ساہیوال سے بی اے کیا۔ پھر وہ لاہور آگیا اور پنجاب یونیورسٹی کے فائن آرٹس کے شعبے میں داخلہ لے لیا جہاں سے ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ یہاں اس کے ہم جماعتوں میں آج کے مشہور مصور عبدالرحیم ناگوری بھی شامل تھے۔ اس کے بعد لاہور ہی میں انجینئرنگ یونیورسٹی سے گرافک ڈیزائننگ کی تربیت حاصل کی۔

1964ء میں جب لاہور میں کُل پاکستان آرٹس نمائش کا انعقاد ہوا تو ابرار نے مجسمہ سازی میں انعام حاصل کیا اور نام ور مصور عبدالرحمٰن چغتائی کے ہاتھوں وصول کیا۔ اس نے یونیورسٹی میں ڈرائنگ، مجسمہ سازی اور اناٹومی کی خصوصیت سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ اس کے اساتذہ میں اینا مولکا احمد، مس حفیظ قاضی، خالد اقبال اور کولن ڈپوڈ جیسی شخصیات شامل تھیں۔

ابرار ترمذی نے مجھے بتایا تھا کہ اس کے گھروالوں کی خواہش تھی کہ وہ تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر بنے یا پھر کسی اعلیٰ سرکاری عہدے پر پہنچے، لیکن اسے بچپن ہی سے آرٹ، فوٹو گرافی اور موسیقی سے دل چسپی تھی۔ اس لیے اس نے والدین کی تمنا کے برعکس اپنے شوق ہی کو پیشہ بنانے کا ارادہ کیا۔ وہ آرٹ کے ساتھ ساتھ استاد محمد حسین سے موسیقی کا درس بھی لیتا رہا، لیکن موسیقی کو ذریعہئ اظہار نہ بنایا۔

اس کے لیے اس نے مصوری کا انتخاب کیا تھا اور فوٹو گرافی شوق کے ساتھ ساتھ آمدنی کا ذریعہ بھی بنتی رہی۔ تاہم اس نے موسیقی کو بالکل ترک نہیں کیا۔ اس کا چسکا بھی ایسا لگا ہوا تھا کہ زندگی کے ساتھ چل رہا تھا۔ اس طرح دیکھیں تو وہ مصوری، موسیقی اور فوٹو گرافی سے بیک وقت وابستہ تھا۔ اس کا کہنا تھا، اگر انسان کو موسیقی کے رموز سے آگاہی حاصل ہوجائے تو اس میں اس کے دکھوں اور خوشیوں کے اظہار کا ویسا ہی سلسلہ ملتا ہے جیسا بصری فنون میں ہے۔

آرٹ کی تعلیم و تربیت سے فارغ ہونے کے بعد وہ دل میں ارادہ کیے ہوئے تھا کہ مغربی دنیا میں جائے گا تاکہ یورپ کے جن فن کاروں کا کام کتابوں میں دیکھا تھا ان کے فن پارے اصل صورت میں دیکھ سکے۔ وہاں کے میوزیم دیکھنے کی تمنا تھی، مگر ابھی اس کے لیے وسائل میسر نہ تھے۔ پھر یہ تھا کہ وہ اپنے بعض دوستوں کے رویے سے بھی دل برداشتہ ہو رہا تھا اس لیے کوشش میں تھا کہ کسی طرح بیرون ملک جائے۔ آخر کار اسے یہ موقع بھی مل ہی گیا۔ چناں چہ ابرار ترمذی 1968ء میں برطانیہ پہنچ گیا۔

اگرچہ اس وقت ہوائی سفر کے کرائے اتنے زیادہ نہیں تھے۔ تاہم اس کے مالی حالات بھی کچھ زیادہ اچھے نہیں تھے۔ اس نے جوں توں کرکے ٹکٹ کا انتظام کیا اور لندن روانہ ہوگیا۔ اس کا کہنا تھا کہ میں اپنے معاشرے کے تضاد سے بھاگا تھا اور اپنے خوابوں کا پیچھا کرتے ہوئے زندگی کی تعمیر کی جستجو میں انگلستان پہنچ گیا۔ جب میں یہاں آیا تو میرے سامنے قطعی طور پر کوئی معاشی یا فنی منصوبے نہیں تھے۔ بس یوں تھا کہ ماحول کی گھٹن سے نکلا جائے اور سبزہ زاروں کی تازہ ہوا میں آزادی سے سانس لیا جائے۔

ابرار سب سے پہلے مانچسٹر پہنچا جہاں اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور کچھ عرصے تک مزید فن کی تعلیم و تربیت حاصل کرتا رہا۔ مانچسٹر میں قیام تو کرلیا تھا، لیکن وہاں رہنے اور زندگی گزارنے کے لیے اخراجات کا وسیلہ کوئی نہ تھا۔ اس موقعے پراس کا فوٹو گرافی کا شوق کام آیا۔

اس نے ایک چھوٹا سا کمرہ کرائے پر لے کر اس میں رہائش اختیار کرلی اور اسی کو اپنا اسٹوڈیو بنالیا۔ اسٹوڈیو قائم کرنے کے بعد اس نے پاکستانیوں اور ہندوستان کے لوگوں کی چھوٹی موٹی تقریبات کی فوٹو گرافی شروع کردی۔ شروع میں کچھ مشکل پیش آئی، لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ کام چل نکلا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں