The news is by your side.

Advertisement

کیا آپ کو چٹخارے دار اچار سے متعلق یہ ‘چٹ پٹی’ باتیں معلوم ہیں؟

برصغیر پاک و ہند میں بسنے والے جہاں اپنی مخصوص بولی، رہن سہن اور بعض رسومات کے سبب ایک دوسرے سے الگ پہچان رکھتے ہیں، وہیں‌ بعض علاقوں کے روایتی پکوان اور لذیذ کھانے بھی بہت مشہور ہیں۔

پاکستان اور بھارت میں ذائقے دار پکوان کے لیے گوشت، سبزیوں، مسالہ جات اور جڑی بوٹیوں کا استعمال عام ہے جب کہ چٹخارے کے لیے قسم قسم کے اچار اور چٹنیاں بھی تیّار کی جاتی ہیں۔

ہندوستان میں‌ اچار صدیوں سے دستر خوان کا حصّہ رہا ہے۔ ہندوستان میں تہذیب و ثقافت اور رہن سہن سے متعلق پرانی کتابوں میں جہاں مختلف پکوانوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، وہیں اچار اور طرح طرح کی چٹنیوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔ 1594ء کی تصنیف کردہ ایک کتاب میں ہندوستان میں انواع و اقسام کے اچار کا ذکر موجود ہے، لیکن صرف ہندوستان ہی نہیں‌ بلکہ دنیا بھر میں کتابوں میں اچار کے متعلق دل چسپ حکایتیں ملتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ارسطو نے مخصوص اچار کو تن درستی کا ذریعہ بتایا ہے، جب کہ الہامی کتاب انجیل میں بھی ایک ایسے ہی پکوان کا ذکر کیا گیا ہے۔ نپولین بھی اچار سے واقف تھا اور قلو پطرہ ایک قسم کے اچار کو رنگ روپ نکھارنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔

تاریخ کی کتب بتاتی ہیں‌ کہ ہندوستان میں‌ مغل بادشاہوں‌ اور امرا کے دستر خوان پر جہاں نہایت عمدہ اور لذیذ پکوان سجائے جاتے تھے، وہیں قسم قسم کے اچار بھی موجود ہوتے تھے۔ اسی طرح‌ تیرھویں صدی کے بادشاہ جون کی ضیافت میں اچار بطورِ خاص سجائے جاتے تھے۔ شاید یہ بات آپ کے لیے تعجب خیز بھی ہو اور دل چسپ بھی کہ امریکا کے صدر جارج واشنگٹن کے کھانے کی میز پر کئی اقسام کے اچار بھی رکھے جاتے تھے۔

پاکستان کی بات کی جائے تو ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کے گھروں میں سالن اور روٹی کے ساتھ اچار کا استعمال عام ہے اور جب کوئی بڑی دعوت ہو تو خاص طور پر اچار اور چٹنیاں‌ تیّار کروا کے انھیں‌ دستر خوان پر سجایا جاتا ہے۔

سندھ کے شہر سکھر میں‌ اچار کی سب سے بڑی مارکیٹ موجود ہے جہاں سے ملک بھر میں‌ قسم قسم کا اچار بھجوایا جاتا ہے۔ سندھ کے مختلف شہروں‌ میں‌ اچار تیّار کرنے کے چھوٹے بڑے کارخانے موجود ہیں، لیکن شکار پور پاکستان بھر میں‌ اچار تیّار کرنے کے لیے مشہور ہے۔ کارخانوں کے علاوہ گھروں میں بھی خواتین مختلف اقسام کے اچار بناتی ہیں، جنھیں مرتبانوں‌ میں‌ رکھا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں