The news is by your side.

پاکستانی شاعرہ اور مصنفہ کے چھوٹی عمر میں بڑے کارنامے، دنیا معترف

پاکستان کی نوجوان شاعرہ اور مصنفہ انیلا طالب نے چھوٹی عمر میں اتنے بڑے بڑے کارنامے انجام دیے ہیں کہ دنیا بھی ان کی صلاحیتوں کی معترف ہوگئی ہے۔

گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی نوجوان شاعرہ اور مصنفہ سیدہ انیلا طالب اللہ تعالیٰ کے 99 ناموں پر 99 حمد باری تعالیٰ لکھ کر نہ صرف بین الاقوامی اعزاز حاصل کرچکی ہیں بلکہ اتنی کم عمری میں مختلف موضوعات پر 7 کتابیں بھی لکھ چکی ہیں اور چار کتابیں بین الاقوامی مصنفین کے ساتھ مل کر لکھی ہیں۔

انیلہ طالب کی ان صلاحیتوں کی دنیا معترف ہے، انہوں نے نہ بین الاقوامی بُک آف پیس ایوارڈ حاصل کیا جس میں ان کے مدمقابل 61 ممالک ک مصنفین تھے بلکہ امریکا، اٹلی، سعودی عرب، مراکش، نائیجریا، انڈونیشیا اور فلپائن میں بھی ایوارڈ جیت چکی ہیں۔

پاکستان کی اس ہونہار طالبہ کی شاعری ترکی، کینیا اور افریقا کے اخبارات میں شائع ہوچکی ہے اس کے علاوہ اسپین کے پوئٹری فیسٹیول میں لاطینی زبان میں ان کی شاعری کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔

دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں سے پاکستان کا نام روشن کرنے والی انیلا طالب اے آر وائی نیوز کے مارننگ شو ’’باخبر سویرا‘‘ کی مہمان بنیں جہاں انہوں نے میزبانوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی خداداد صلاحیتوں سے آگاہ کیا۔

انیلہ طالب نے بتایا کہ میرا بچپن سے اللہ تعالیٰ پر یقین کامل تھا اور صوفی ازم شوق سے پڑھتی تھی، 10 سال کی عمر میں پہلی نظم لکھی تھی، والد سمیت سب ہی گھر والے سپورٹ کرنے والے تھے جس سے مجھے حوصلہ ملا۔

انہوں نے بچپن سے ہی اس جانب آنے کے بارے میں بتایا کہ کیونکہ میں بچپن سے ہی صوفی ازم کو شوق سے پڑھتی تھی تو حضرت شمس تبریز کا ایک قول میرے ذہن میں نقش ہوگیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے تو اپنے اندر جھانکو کہ تمہارے اندر وہ ایسی کون سی خصوصیات ہیں جو دنیا والوں پر آشکار کرسکتی ہیں کہ تم دنیا میں اللہ کے خلیفہ ہو‘‘، اسی قول پر عمل کرتے ہوئے جب میں نے اپنے اندر جھانکا تو مجھے لگا کہ میرے اندر لکھنے کی صلاحیتیں ہیں۔

انیلہ نے مزید کہا کہ میرا تعلق سید خاندان سے ہے، گھٹی میں صوفی ازم شامل ہے اور گھر کا ماحول بھی اسی رنگ میں رنگا ملا، تو آسانی رہی، جب میں 16 کی تھی تو باقاعدہ لکھنے کا آغاز کیا اس وقت میں نے اپنا پہلا کالم ’’پاکستان تو بیکار نہیں‘‘ کے عنوان سے لکھا تھا۔

نوجوان شاعرہ اور مصنفہ نے بتایا کہ اس کے بعد پھر وہ رکی نہیں اور مسلسل آگے بڑھتی چلی گئی، انیلہ کے مطابق جب میں بیٹھی ہوتی ہوں یا سفر میں ہوں تو الفاظوں کی آمد ہونا شروع ہوجاتی تھی اور جس وقت الفاظ وارد ہونا شروع ہوتے ہیں میں اسی وقت اٹھ کر لکھنا شروع کردیتی ہوں۔

پروگرام میں انیلہ طالب نے اللہ تعالی کے 99 صفاتی ناموں میں سے ایک نام ’’الوَلِیُ‘‘ پر اپنی لکھی گئی حمد باری تعالیٰ بھی سنائی اور بتایا کہ اس نام کے معنی مددگار کے ہیں اور علمائے اوراد اس نام کے مطلب کی تشریح کرکے بتاتے ہیں کہ اس کے معنی ہیں کہ اس وقت مدد کرنے والا جب آپ کی مدد کے لیے کوئی دوسرا موجود نہ ہو۔

انیلہ ظاہر کا مختصر انٹرویو اور ’’الوَلِیُ‘‘ کے صفاتی نام پر حمد آپ بھی سنیں اور دیکھیں۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں