منگل, مارچ 17, 2026
اشتہار

صہبا اختر: معروف غزل گو شاعر اور فلمی گیت نگار

اشتہار

حیرت انگیز

صہبا اختر کا نام آج اگر اردو ادب کے طالبِ علموں کے لیے نامانوس نہیں تو نئی نسل کے باذوق قارئین اور نوجوان شعراء کے لیے نیا ضرور ہوگا، لیکن زمانے کی گردش اور وقت کی رفتار میں‌ یہ کوئی انہونی اور تعجب خیز بات نہیں‌ ہے۔ اردو ادب میں صہبا صاحب کا مقام اور ان کی شاعرانہ حیثیت برقرار ہے۔ آج صہبا اختر کی برسی ہے۔

صہبا صاحب نے اردو غزل اور نظم گوئی میں بڑا نام پیدا کیا۔ ان کی بیشتر نظمیں وطن سے ان کی محبت اور اس مٹی سے پیار کا والہانہ اظہار ہیں۔ اس کے ساتھ وہ ان مسائل کو بھی شاعری میں خوب صورتی اور شدت سے بیان کرتے ہیں‌ کہ جو ان کی نظر میں وطن کی صبحِ درخشاں کو تیرگی اور تاریکی کا شکار کرسکتے ہیں۔ ان کا لحن اور جذبہ ان کی شاعری میں دو آتشہ کی کیفیت پیدا کرتے ہیں۔ ان کی ایک وجہِ‌ شہرت مشاعرہ پڑھنے کا وہ انداز تھا جس میں طنطنہ، رعب اور گھن گرج محسوس ہوتی تھی۔ یہ انداز صہبا صاحب سے مخصوص ہے۔ ان سے پہلے اور ان کے بعد بھی اب تک کوئی اس لحن میں کلام نہیں پڑھ سکا۔

صہباؔ اختر کا اصل نام اختر علی رحمت تھا۔ وہ 30 ستمبر 1931ء کو جموں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد منشی رحمت علی اپنے زمانے کے معروف ڈراما نگار تھے۔ یوں شروع ہی سے صہبا اختر کو مطالعہ کا شوق ہوگیا اور علمی و ادبی ماحول میں ان کی طبیعت بھی شعر گوئی کی طرف مائل ہوگئی۔ بریلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور علی گڑھ سے بی اے کی ڈگری لی، تب قیامِ پاکستان عمل میں‌ آیا اور وہ ہجرت کرکے کراچی آگئے۔ یہاں لٹے پٹے دوسرے مہاجروں کی طرح ان کے خاندان نے بھی نامساعد حالات کا سامنا کیا، مگر پھر صہبا اختر کو محکمۂ خوراک میں نوکری مل گئی اور اس کے ساتھ وہ ادبی سرگرمیوں میں مشغول ہوگئے۔ کراچی کے ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ انھوں نے اپنے کلام سے باذوق افراد اور شاعری کے قارئین کو بھی متوجہ کرلیا۔ مشاعروں میں ان کو بہت اہمیت دی جانے لگی اور خاص طور پر صہبا اختر کے کلام پڑھنے کا انداز مقبول ہوا۔ انھوں نے غزل کے علاوہ حمد و نعت، مرثیہ گوئی، دوہے، رباعی جیسی اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی۔

صہبا صاحب کا ایک بڑا حوالہ ان کی فلمی گیت نگاری اور ملّی نغمات ہیں۔ صہبا اختر کے مجموعہ ہائے کلام میں اقرا، سرکشیدہ، سمندر اور مشعل شامل ہیں۔ انھیں بعد از مرگ صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔ احمد ندیم قاسمی نے اپنے مضمون میں‌ صہباؔ صاحب کے بارے میں‌ لکھا تھا:’’صہبا اختر کے ہاں جذبے اور احساس کے علاوہ ملکی اور ملی موضوعات کا جو حیرت انگیز تنوع ہے وہ انھیں اپنے معاصرین میں بہرحال ممیز کرتا ہے۔ نظم ہو یا غزل مثنوی ہو یا قطعہ وہ اپنے موضوع میں ڈوب کر اس کے آفاق پر چھا کر شعر کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں قاری یا سامع کے دل و دماغ کو اپنی گرفت میں لینے کی جو توانائی ہے، وہ اس دور میں بے مثال کہی جا سکتی ہے۔ بظاہر وہ بلند آہنگ شاعری کرتے ہیں لیکن اس طرح کا خیال عموماً ان لوگوں کا ہوتا ہے جنھوں نے صہبا اختر کو مشاعروں میں پڑھتے سنا مگر ان کے کلام کے مطالعے سے محروم ہیں۔ یہی احباب صہبا اختر کے کلام کو یکجا دیکھیں گے تو انھیں معلوم ہو گا کہ یہ شاعر جو مشاعروں میں گرجتا اور گونجتا ہے اپنے کلام کی گہرائیوں میں کتنا اداس اور تنہا ہے۔ ‘‘

صہبا صاحب کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے آپ میں گم رہنے والے، نہایت کم گو تھے اور دوسرو‌ں کے متعلق یا اپنے ہم عصر شعراء کی عیب جوئی یا کسی پر نکتہ چینی کبھی نہیں‌ کرتے تھے۔ صہبا صاحب کا یہ تذکرہ پڑھیے: ’’غالباً 1955ء کا ذکر ہے، نواب شاہ میں ایک بڑے مشاعرے کا انعقاد ہوا۔ کراچی سے شرکت کرنے والوں میں ایک چھیل چھبیلا جوان العمر شاعر بھی تھا۔ گھنے گھنے، گھنگریالے سیاہ اور چمکتے دمکتے بال، گول مٹول سا بھرا بھرا چہرہ، خمار آلود شربتی آنکھیں، ستواں ناک، متناسب لب اور دل کش قد و قامت کے ساتھ ساتھ تنومند جسم پر ململ کا کڑھا ہوا کرتا اور صاف و شفاف لٹھے کا ڈھیلا پاجامہ۔ یہ تھی صہبا اختر کی سج دھج، جنھوں نے اپنی باری آنے پر بڑی لمبی بحر کی غزل چھیڑی اور وہ بھی منجھے ہوئے ترنم سے۔ حاضرین منتظر ہیں کہ ذرا کہیں رکیں تو داد و تحسین سے نوازے جائیں۔ اُدھر بھائی صہبا اختر کی محویت کا یہ عالم کہ جیسے ایک ہی سانس میں پوری غزل سنا ڈالیں گے۔ مسئلہ پوری غزل کا نہیں بلکہ مطلع ہی ایسی بحرِ طویل کو تسخیر کر رہا تھا کہ سانس لینے کی فرصت کسے تھی۔ بہرکیف غزل خوب جمی اور داد بھی بہت ملی۔

صہبا اختر کی ایک بہت خوب صورت رباعی ملاحظہ کیجیے۔

انفاس میں کلیوں کی مہک لے آیا
احساس میں شیشوں کی کھنک لے آیا
کیا باتیں ہوئیں اُن سے مجھے یاد نہیں
جو پھول گرے اُن کی مہک لے آیا

صہبا اختر کے تحریر کردہ فلمی گیت بہت مقبول ہوئے۔ ان میں اک اڑن کھٹولا آئے گاایک لال پری کو لائے گا، دنیا جانے میرے وطن کی شان، چندا تجھ سے ملتا جلتا اور بھی تھا اک چاند، پریتم آن ملو، تنہا تھی اور ہمیشہ سے تنہا ہے زندگی اور چاند کی سیج پہ تاروں سے سجا کر سہرا شامل ہیں۔

19 فروری 1996ء کو صہبا اختر انتقال کر گئے اور کراچی میں گلشنِ اقبال کے ایک قبرستان میں آسودۂ خاک کیے گئے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں