پی آئی اے کے ملازم کی ہلاکت قابل مذمت ہے، ایچ آر سی پی -
The news is by your side.

Advertisement

پی آئی اے کے ملازم کی ہلاکت قابل مذمت ہے، ایچ آر سی پی

کراچی: پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تشدد کے نتیجے میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن (پی آئی اے) کے ایک ملازم کی ہلاکت اور دیگر چار افراد کے زخمی ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جو پی آئی کی نجکاری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

ایک بیان میں کمیشن نے کہا کہ ایچ آر سی پی فائرنگ کے واقعے میں پی آئی اے کے ملازم کی ہلاکت کی مذمت کرتا ہے۔ صبح کے وقت ٹی وی پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ جب مظاہرین نے ایئر پورٹ کی طرف جانا شروع کیا تو پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں نے ان کے خلاف لاٹھیوں، واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

کمیشن نے کہا کہ ہر شہری کو پرامن احتجاج کی آزادی کا حق حاصل ہے، پی آئی کے ملازمین نے پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کے حوالے سے اپنے خدشات کا کئی مرتبہ اظہار کیا تھا۔ یہ امر باعث تشویش ہے کہ منگل کے روز ملازمین پر گولیاں چلائی گئیں۔ آیا یہ طاقت کا مناسب استعمال تھا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے، اور اس نقطے کی عدالتی تحقیقات کرانا ضروری ہے۔اب قانون نافذ کرنے والے ادارے اور موقع پر موجود اہلکار یہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے آتش گیر اسلحہ استعمال نہیں کیا۔

سندھ رینجرز کا کہنا ہے کہ پیراملٹری فورس نے کوئی گولی نہیں چلائی اور ایک اعلیٰ پولیس افسر کا یہ کہنا ہے کہ انہیں ملازمین پر گولی چلانے یا ان پر تشدد کرنے کی اجازت نہیں تھی۔

ایچ آر سی پی ہلاکت کے نتیجے میں پھوٹنے والے تشدد کی شدید مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ ذمہ داران کا سراغ لگانے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے اعلیٰ عدلیہ کے جج کے ذریعے فوری اور قابل بھروسہ تحقیقات کی جائیں۔

معاملے کو اس طریقے سے نبٹانا بہتر تھا کہ جس سے سڑکوں پر احتجاجی مظاہروں کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ ایچ آر سی پی کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس معاملے کو فوری اور پرامن انداز سے حل کرنے کے لیے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کئے جائیں اور پی آئی اے کے ملازمین کے تحفظات کا ازالہ کیا جائے۔

ایئر لائن اور دیگر سرکاری اداروں کی بلاسوچے سمجھے نجکاری کے عمل کی صرف متعلقہ ملازمین ہی نہیں بلکہ نامور خودمختار ماہرین بھی کررہے ہیں۔ بہرحال، یہ یقینی بنانے کی تمام کوششیں کی جائیں کہ اختلافات مزید تشدد یا کشیدگی کا سبب نہ بنیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں