The news is by your side.

Advertisement

سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی حالت زار، پی ٹی آئی کا چیف جسٹس سے نوٹس کا مطالبہ

اسلام آباد: تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید نے سعودی عرب کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تشویشناک حالت زار پر چیف جسٹس آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی جیلوں میں قید پاکستانی شہریوں کی تشویشناک صورتحال پر تحریک انصاف نے چیف جسٹس آف پاکستان سے از خود لینے کا مطالبہ کردیا۔

رکن قومی اسمبلی مراد سعید کا کہنا تھا کہ سعودی  جیلوں میں قید پاکستانی محنت کشوں کی حالت زار قابل رحم ہے، 4سال سےمتعلقہ وزارت، پاکستانی سفارتخانےسے رابطےکررہا ہوں مگر کسی نے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بھی آواز اٹھائی مگر کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔

مراد سعید نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ حکومتی غفلت پر ازخود نوٹس لیں اور جسٹس ثاقب نثار انسانی بنیاد پر اپنے ہم وطنوں کی مدد کریں، اگر عدالت کو جیلوں میں قید شہریوں کی تفصیلات درکار ہیں تو میں فراہم کروں گا۔

مزید پڑھیں: دس ہزار سے زائد پاکستانی غیر ملکی جیلوں‌ میں‌ قید ہونے کا انکشاف

واضح رہے کہ وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے دو ماہ قبل فروری کے مہینے میں مختلف ممالک کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کی تھیں جس کے مطابق بیرون ملک میں گرفتار یا نظر بند پاکستانیوں کی تعداد 10 ہزار 715 ہے۔

وزیرخارجہ کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا پاکستانیوں کی سب سے زیادہ تعداد 3 ہزار 87 سعودی عرب کی جیلوں میں موجود ہے جبکہ یو اے ای میں 2 ہزار 710 پاکستانی شہری نظر بند ہیں۔

خواجہ آصف کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں یہ بھی بتایا گیا تھاکہ بنگلا دیش میں 40، ملائشیا میں 226 پاکستانی نظر بند ہیں علاوہ ازیں یورپ، برطانیہ اور امریکا میں بھی پاکستانی شہری جیلوں میں موجود ہیں۔

واضح رہے کہ اچھی آمدن حاصل کرنے کے لیے پاکستانیوں کی بڑی تعداد خلیجی ممالک سمیت مختلف ملکوں کا رخ کرتی ہے، گزشتہ برس بنکاک میں حراست میں لیے گئے شہری کی والدہ نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ حکومتی سطح پر بیٹے کو ئی مدد فراہم نہیں کی جارہی۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی جیلوں میں پاکستانی خواتین بھی قید، رہائی کی منتظر

انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ تفتیشی افسران کو اردو زبان نہیں آتی جبکہ بیٹا انگریزی نہیں سمجھ سکتا اس لیے عدالت نے اُس کا مؤقف سننے بغیر ہی سزا سنادی۔

عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے حکومت کو ہدایت کی تھی کہ بیرونِ ممالک جیلوں میں موجود پاکستانیوں کی وطن واپسی یا انہیں قانونی مدد فراہم کرنے کے لیے کوئی فریم ورک تیار کیا جائے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں