پاکستان سے ہنر مند نوجوانوں کا انخلا بہت تیزی سے جاری ہے، اور ملک اس وقت تاریخ کی بد ترین برین ڈرین صورت حال سے دوچار ہے، ملک کی نوجوان نسل شدید مایوسی کا شکار ہو کر ملک سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔
پاکستان کی کل آبادی کا تقریبآ 64 فی صد حصہ 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، یہ طبقہ ملک سے راہ فرار اختیا رکرنے پر مجبور ہے۔ جب کہ کسی بھی ملک کے لیے یہ طبقہ معاشی ترقی کا سب سے بڑا انجن بن سکتا ہے۔
بیورو آف امیگریشن اور اوورسیز ایمپلائمنٹ کے اعداد و شمارکے مطابق صرف گزشتہ تین سال کے دوران 20 لاکھ سے زائد پاکستانی قانونی طور پر روزگار کی تلاش میں ملک چھوڑ چکے ہیں۔
ریبیز سے ہر سال 5 ہزار اموات کیوں؟ ویڈیو رپورٹ
ملکی تاریخ میں ’’برین ڈرین‘‘ کی ایسی لہر پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، جس میں ملک کے پڑھے لکھے، ہنرمند اور باصلاحیت نوجوانوں کی بڑی تعداد پاکستان چھوڑ کر جا رہی ہے۔ لیکن اس المیے کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس عظیم ہجرت کا بڑا سبب اب محض بے روزگاری نہیں، بلکہ پاکستان کے نجی شعبے میں پھیلی گہری مایوسی، ملازمت کا عدم تحفظ اور محنت کا صلہ نہ ملنا ہے۔
پاکستان میں پچھلے چند سالوں میں کئی مقامی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان میں اپنے آپریشنز محدود کرنے پڑے ہیں کیوں کہ انھیں ان کے معیار کے مطابق ہنرمند افرادی قوت دستیاب نہیں ہو پا رہی۔


