اسلام آباد (16 جنوری 2026): ایران میں تعینات پاکستانی سفیر محمد مدثر ٹیپو نے تہران سے بذریعہ سڑک وطن واپس آنے والوں کیلیے اہم پیغام دیا ہے۔
پاکستانی سفیر نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایران سے پاکستان آنے والے سرحدی اوقات کار کی پابندی کریں، سرحدی اوقات کار صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک مقرر ہیں، پاکستانی شہری سرحد بند ہونے سے 3 سے 4 گھنٹے قبل پہنچیں۔
محمد مدثر ٹیپو نے کہا کہ آج 4 پاکستانی طالبات گبد-ریمدان سرحد پر پھنس گئیں، بارڈر بند ہونے کے باعث ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ہماری درخواست پر تہران نے فوری سہولت فراہم کی۔
پاکستانی سفیر نے ایرانی حکام کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ بلوچستان حکومت نے بروقت سہولت فراہم کی ان کے بھی مشکور ہیں۔ انہوں نے خواتین اور بچوں کو تافتان-زاہدان سرحد سے سفر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
11 جنوری 2026 کو ایران میں احتجاجی مظاہروں کے پیشِ نظر وزارت خارجہ پاکستان نے شہریوں کیلیے ایڈوائزری جاری کی تھی۔
محمد مدثر ٹیپو نے بتایا تھا کہ وزارت خارجہ نے پاکستانی شہریوں کیلیے ایڈوائزری جاری کی ہے، شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ اس پر عمل کریں۔
انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے اپنے شہریوں کی مدد کیلیے سفارتخانے میں ایک یونٹ قائم کیا ہے جبکہ ان کیلیے ہیلپ لائن نمبرز بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق ایران میں گزشتہ 40 گھنٹے سے انٹرنیٹ بند ہے جس سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، 150 پاکستانی طلبہ نے اپنے اہلخانہ کو اطلاع کیلیے نمبرز فراہم کیے ہیں، سفارتخانے میں مواصلاتی رابطے کیلیے انتظامات کیے گئے ہیں، طلبہ یہاں آ کر اپنے اہلخانہ کا نمبر دیتے ہیں۔
’جو طلبہ پاکستان جانا چاہتے ہیں وہ یونیورسٹی کا کلیئرنس سرٹیفکیٹ ساتھ رکھیں۔ جن کے پاس یونیورسٹی کلیئرنس نہیں ہوگی ان کو بارڈر پر مسائل ہوں گے۔ خرمزگان پر 70 طلبہ بارڈر پر پہنچے جنہیں ہم نے پاکستان روانہ کروایا۔‘
پاکستانی سفیر نے مزید بتایا تھا کہ وزارت خارجہ نے کرائسز مینجمنٹ سیل بنا دیا ہے اس سے سہولت فراہم کر رہے ہیں، شہری اور طلبہ اپنی دستاویز اور ادویات ساتھ رکھ کر سفر کریں، طلبہ کا اہلخانہ سے رابطہ نہیں ہو رہا تو سفارتخانہ سے رابطہ کریں ہم بات کروائیں گے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


