اسلام آباد : چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے انکشاف کیا کہ پاکستان کے 9 ہزار افراد کے پاس 750 ارب روپے کے بینک ڈیپازٹ ہیں اور ان افراد نے صفر انکم ٹیکس ادا کیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے پاکستان کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل پر بریفنگ دیتے ہوئے ملک میں ٹیکس چوری اور آمدن چھپانے کے حوالے سے ہوش ربا انکشافات کیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اہم اجلاس سید نوید قمر کی زیرِ صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے پاکستان کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل پر بریفنگ دی.
چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ایف بی آر میں ٹیکنالوجی کا استعمال نمایاں طور پر بڑھایا گیا ہے، اور جب محکمے کو مختلف ڈیٹا بیسز تک رسائی حاصل ہوئی تو انتہائی چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے۔
راشد محمود لنگڑیال نے کمیٹی کو بتایا کہ ڈیٹا بیس کی اسکرٹنی سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے 9 ہزار افراد ایسے ہیں جن کے بینک کھاتوں میں 750 ارب روپے کے ڈیپازٹس موجود ہیں، لیکن ان افراد نے ریکارڈ کے مطابق صفر (صفر فیصد) انکم ٹیکس ادا کیا ہے۔
انھوں نے ملک میں ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والوں کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے 98.9 فیصد ریٹرن فائلرز اپنی اصل آمدن کو کم ظاہر کرتے ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ ایک عجیب تضاد یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملک کے 80 فیصد فائلرز اپنے ٹیکس ریٹرنز میں اپنی خریدی گئی مہنگی ترین پراپرٹی تو ظاہر کر دیتے ہیں لیکن اس کے متوازی اپنی آمدن چھپا جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس موجودہ تشویشناک صورتحال کو درست کرنے اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے اب ایک جدید ‘فیس لیس سسٹم’ (Faceless System) کے نظام پر کام شروع کیا گیا ہے، اس نئے ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ٹیکس حکام اور ٹیکس دہندہ کا آپس میں براہِ راست کوئی رابطہ نہیں رہے گا، جس سے صوابدیدی اختیارات کے ناجائز استعمال اور ملی بھگت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔


