site
stats
پاکستان

پاکستان کا ناقہ سوارملٹری بیگ پائپ بینڈ پوری دنیا میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کو تیار

موج گڑھ: پاکستان کی صحرائی رینجرزنے پاکستان کا پہلا اونٹ سواربیگ پائپرملٹری بینڈ تشکیل دیا ہے جو کہ دنیا بھرکی فضاؤں میں اپنی مدھر دھنیں بکھیرنے کے لئے تیارہیں۔

سبز اورسنہرے رنگ کے یونیفارم میں ملبوس یہ اونٹ سوارصحرا کے دو رنگے منظرکی عکاسی کرتے ہیں۔

اونٹوں پر سوار یہ موسیقار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے تھوڑے نروس بھی نظرآتے ہیں کہ انہوں نے پشت ِ ناقہ پراپنا توازن برقراررکھتے ہوئے مدھردھنیں بکھیرنی ہوتی ہیں۔

محمد حسین نامی بیگ پائپرکا کہنا تھا کہ یقیناً اونٹ کی پشت پرسوارہوکربیگ پائپ بجانا یقیناً ایک مشکل امرہے تاہم اب ہم اس فن میں ماہرہوچکے ہیں۔

یہ منفرد بینڈ گزشتہ سال اس وقت تشکیل دیا گیا جب سینکڑوں اونٹوں کو ملٹری پٹرول سے فارغ از سروس قراردیا گیا۔

اس حوالے سے ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل عبدالرزاق کا کہنا ہے کہ ’’یہ بینڈ ہماری افواج کا فخرہے اور ہمارے روایتی حریف بھارت کے ساتھ ہر میدان میں توازن برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے پاس اپنا بھی اونٹ سواربینڈ موجود ہے لیکن ہمارا بینڈ ان سے منفرد ہے جوکہ بیگ پائپ بجاتا ہے پیتل کی شہنائی نہیں جو کہ بیگ پائپ کی نسبت انتہائی آسان ہے۔

موج گڑھ میں موجود صدیوں قدیم قلعہ پاکستان آرمی کے دستوں کے لئے بیس کیمپ کا کام دیتا ہے اوراس کے انتہائی موضوع محل وقوع کے سبب حکام نے اسے اونٹ سوارموسیقاردستے کی تعیناتی کے لئے منتخب کیا ہے۔

آرمی نے یہاں ایک وسیع وعریض فارم بھی تعمیرکیا ہے جس میں 170 اونٹ رکھنے کی گنجائش ہے اوریہاں تربیت کار اونٹوں کو ایک قطار میں رہنے کی تربیت دیتے ہیں۔

رینجرز کے مطابق ان میں سے کئی اونٹ نا صرف یہ کہ مارچ کرتے ہیں بلکہ کرتب دکھانے میں بھی بے حد ماہر ہیں، اونٹوں اور رینجرز کے جوانوں کی ہم آہنگی بھی قابل دید ہے خصوصاً جب تین اونٹوں پررینجرزکے جوان مثلث کی صورت میں سوارہوتے ہیں۔

لیفٹیننٹ کرنل عبدالرزاق نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت پاکستان کے علاوہ پوری دنیا میں صرف ایک اوراونٹ سوار بیگ پائپربینڈ ہے جو کہ اومان کے سلطان کا ہے تاہم پاکستانی طائفہ جلد ہی عالمی افق پر اومانی طائفے کا حریف ثابت ہوگا۔

انہیں نے کہا کہ اگر ہمیں اونٹ پہچانے کی سہولت مل جائے تو ہم پوری دنیا میں کہیں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top