The news is by your side.

Advertisement

ملک پر قرضوں کے بوجھ میں خطرناک حد تک اضافہ

اسلام آباد : ملک پر قرضوں کے بوجھ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا، رواں مالی سال کے اختتام تک ملکی قرضوں کا حجم چوبیس ہزار ارب تک ہوجائے گا۔

تفصیلات کے مطابق ملک پر قرضوں کا بوجھ خطرناک حد تک بڑھ گیا، پندرہ سال میں پہلی بار قرضوں کا جی ڈی پی میں نتاسب ستر فیصد سے تجاوز کرگیا، قرضوں میں اضافے کو وزارت خزانہ نے بھی قبول کیا ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام تک ملکی قرضوں کا حجم چوبیس ہزار ارب سے تجاوز کر جائےگا، قرضوں کی یہ حد قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

قانون کے مطابق ملک پر قرضے جی ڈی پی کا ساٹھ فیصد ہونے چاہئیں، گزشتہ سال کے مقابلے میں قرضوں میں انتیس سو ارب کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال میں پاکستان کو تیرہ ارب ڈالر مزید قرض کی ضرورت ہوگی۔

یاد رہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے قرضوں میں ہوشربا اضافے کی پیشگوئی کی تھی کہ سنہ 2020 تک پاکستان پر قرضوں کا حجم 114 ارب ڈالر ہوجائے گا۔


مزید پڑھیں : مسلم لیگ ن نے ساڑھے4 سال میں 43 ارب ڈالر کاغیر ملکی قرضہ حاصل کیا


رپورٹ کے مطابق رواں برس 2018 میں قرضوں کا حجم 93 ارب 27 کروڑ ڈالر ہے، رواں برس پاکستان کو 7 ارب 73 کروڑ ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ سنہ 2019 میں ادائیگیاں بڑھ کر 12 ارب 73 کروڑ ڈالر ہوجائیں گی۔

خیال رہے کہ نون لیگ نے ساڑھے چار سال میں تینتالیس ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ حاصل کیا جبکہ عالمی بینک سمیت دیگر اداروں سے پندرہ ارب ڈالر کے قرضے حاصل کئے گئے۔

سال 2018 میں بننے والی نئی حکومت کو مجموعی طور پر پچیس ارب ڈالر کے قرضے اتار نے ہونگے۔


نواز لیگ کی حکومت میں ملک پر قرضوں کے بوجھ میں 35 فیصد کا ہوش ربا اضافہ


واضح رہے کہ نواز لیگ کے موجودہ دورے حکومت میں ملک پر قرضوں کے بوجھ میں پینتیس فیصد کا ہوش ربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد ملک کا مجموعی قرضہ 18 کھرب روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں