نیویارک : پاکستان کی سفارتی جیت کو بھارت کے لیے ایک ‘ویک اپ کال’ قرار دے دیا گیا ،پاکستان نے ‘امن کے ضامن’ کے طور پر عالمی سطح پر خود کو منوا لیا۔
پاکستان کو سفارتی تنہائی کا شکار کرنے کی بھارتی سازشیں دم توڑ گئیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ کو ٹالنے اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے پاکستان نے ‘امن کے ضامن’ کے طور پر عالمی سطح پر خود کو منوا لیا ہے۔
امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، اس پیش رفت نے ثابت کر دیا ہے کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ "پاکستان نے ناقابلِ یقین حد تک مؤثر ثالثی کی ہے، اور امریکہ کے لیے اس عمل کو پاکستان کے ذریعے ہی جاری رکھنا انتہائی اہم ہے۔”
ایران میں پاکستان کے سابق سفیر آصف درانی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایران کو کسی دوسرے ملک پر اس حد تک اعتماد نہیں جتنا پاکستان پر ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتوں کے لیے تہران تک رسائی کا واحد معتبر راستہ پاکستان ہی ہے۔
سنگاپور کے نشریاتی ادارے چینل نیوز ایشیا نے پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کو بھارت کے لیے ایک ‘ویک اپ کال’ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف کیے جانے والے شدت پسندانہ اور قوم پرست پروپیگنڈے کے باوجود پاکستان نے اپنی جغرافیائی اہمیت کو عالمی طاقتوں کے سامنے منوا لیا ہے۔
معروف تجزیہ کار ڈاکٹر اپرنا پانڈے کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دہائیوں سے اپنی جیو پولیٹیکل اہمیت کو عالمی طاقتوں کے ساتھ مؤثر انداز میں استعمال کیا ہے، جس کا نتیجہ آج دنیا کے سامنے ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


