The news is by your side.

Advertisement

ڈنڈا بردار فورس دکھانے پر پاکستان کے معاشی امیج کو نقصان پہنچا: حماد اظہر

جنوری 2020 میں ایف اے ٹی ایف کو فائنل رپورٹ دیں گے، وفاقی وزیر

اسلام آباد: معاشی امور کے وزیر حماد اظہر نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ڈنڈا بردار فورس کو دکھانے سے پاکستان کو نقصان پہنچا ہے، عالمی معاشی ادارے اس قسم کے مسلح جتھے دیکھ کر حکومتوں سے سوال پوچھتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر حماد اظہر نے اسلام آباد میں معاشی امور سے متعلق اہم پریس کانفرنس کی، انھوں نے کہا مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے باعث ملک کو نقصان ہوا، ڈنڈا بردار فورس دکھانے کے بنیادی طور پر 2 مقاصد تھے جن سے نقصان ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ عالمی معاشی ادارے اس قسم کے مسلح جتھے دیکھ کر حکومتوں سے استفسار کرتے ہیں، دوسری طرف عالمی میڈیا میں اس وقت کشمیر کی صورت حال زیر بحث ہے، بھارت کی کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں دکھائی جا رہی ہیں، ایسے مسلح جتھے دیکھ کر عالمی میڈیا نے بھی پاکستان کی طرف توجہ کر لی، اور کشمیر کی بہ جائے پاکستان میں مسلح جتھے دکھائے جانے لگے۔

حماد اظہر نے کہا کہ عالمی میڈیا کو نہیں معلوم کہ یہ سب سیاسی مقاصد کے لیے کیا جا رہا تھا، مسلح جتھوں کی ویڈیوز دیکھ کر بھارتی میڈیا نے بھی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا شروع کیا۔

ایف اے ٹی ایف

ایف اے ٹی ایف سے متعلق وفاقی وزیر برائے معاشی امور نے تفصیلی بریفنگ دی، حماد اظہر نے کہا کہ جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی جانب سے ایکشن پلان ملا تھا، کوئی بھی ملک ڈھائی سال کے اندر گرے لسٹ سے نکلتا ہے، گزشتہ 10 ماہ میں پاکستان نے اس پر خاطر خواہ اقدامات کیے، اجلاس میں کئی ممالک نے ان اقدامات کی تعریف کی، دہشت گردوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ روکی، انٹر انٹیلی جنس کو آرڈینشن کو بہتر کیا، ایف اے ٹی ایف کے لیے خصوصی طور پر ایک ادارہ بنایا گیا۔

حماد اظہر نے بتایا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے 2 گروپس میں ہے جن کی نگرانی ہو رہی ہے، کچھ عناصر کی کوشش کی تھی پاکستان کے لیے دونوں گروپس کو ضم کر لیا جائے، ایسا ہوتا تو مسائل بڑھ جاتے، دونوں ایکشن پلانز ضم ہوتے تو 27 کی بہ جائے 100 سے زائد آپشنز ہو سکتے تھے، پاکستان کو کامیابی ملی کہ انھیں ضم نہیں کیا گیا، جنوری 2019 میں 27 میں سے 25 آپشنز ایسے تھے جو نامکمل تھے، اب یہ آپشنز 25 سے کم ہو کر 5 رہ گئے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا آئی سی آر جی کے ایکشن پلان کے 27 آپشنز کو 2020 میں مکمل کر لیں گے، اے پی جی کی جانب سے 40 تجاویز آئیں، ان میں سے 26 تجاویز کو عبوری طور پر کر لیا گیا، ان میں سے 10 مکمل ہیں، اس میں نیا ایکشن پلان دیا گیا تو وہ ایک سے 3 سال کا ہو سکتا ہے، اے پی جی میں ضروری نہیں کہ ہم گرے لسٹ میں رہیں، اس کی نسبت آئی سی آر جی کا ایکشن پلان مشکل ہوتا ہے۔

انھوں ںے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے اقدامات سے ہمارے اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی، جنوری 2020 میں ایف اے ٹی ایف کو فائنل رپورٹ دیں گے، جون 2020 تک انشاء اللہ آئی سی آر جی کے ایکشن پلان کو بھی مکمل کر لیں گے۔ معاشی فورم کو سیاسی کرنے پر بھارت پر پہلے بھی اعتراض کرتے رہے ہیں، ایسا کرنے پر آیندہ بھی اعتراض کرتے رہیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں