The news is by your side.

Advertisement

غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر

کراچی : غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، مارچ کے اختتام تک غیر ملکی قرضوں کا حجم 91 ارب 76 کروڑ ڈالر ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ملک پر قرضوں کے بوجھ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا اور غیر ملکی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا، رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں پانچ ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں کی مد میں ادا کئے گئے ہیں جبکہ مجموعی طور ہر رواں مالی سال تک آٹھ ارب ڈالر تک کی ادائیگیاں کرنی ہیں

اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی میں اصل قرضے، قلیل مدتی قرضے اور سود کی ادائیگی شامل ہے، جولائی تا مارچ 3ارب 52 کروڑ ڈالر کے قرضے ادا کئے گئے اور سود کی ادائیگی کی مد میں ایک ارب چوالیس کروڑ ڈالر صرف کئے گئے، یہ رقم پیرس کلب اور دیگر مالیاتی اداروں کو ادا کی گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی تا ستمبر کے دوران دو ارب ڈالر ، دوسری سہماہی میں ایک ارب باون کروڑ ڈالر جبکہ تیسری سہماہی میں ایک ارب پینتیس کروڑ ڈالر کی ادائیگیاں کی گئی۔

اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے بقیہ مہینوں میں مزید دو سے تین ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔

آ ئین کےمطابق قرضوں کا حجم جی ڈی پی کےساٹھ فیصد تک ہونا چاہیئے تاہم مسلم لیگ نون کے پانچ سال مکمل ہونے پر قرضے جی ڈی پی کا ستر فیصد سے زائد ہو گئے۔


مزید پڑھیں :  غیر ملکی قرضوں کا حجم 91 ارب 67 ارب ڈالر سے تجازو کرگیا


معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال میں پاکستان کو تیرہ ارب ڈالر مزید قرض کی ضرورت ہوگی۔

یاد رہے کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کے قرضوں میں ہوشربا اضافے کی پیشگوئی کی تھی کہ سنہ 2020 تک پاکستان پر قرضوں کا حجم 114 ارب ڈالر ہوجائے گا۔

رپورٹ کے مطابق رواں برس 2018 میں قرضوں کا حجم 93 ارب 27 کروڑ ڈالر ہے، رواں برس پاکستان کو 7 ارب 73 کروڑ ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ سنہ 2019 میں ادائیگیاں بڑھ کر 12 ارب 73 کروڑ ڈالر ہوجائیں گی۔

خیال رہے کہ نون لیگ نے ساڑھے چار سال میں تینتالیس ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضہ حاصل کیا جبکہ عالمی بینک سمیت دیگر اداروں سے پندرہ ارب ڈالر کے قرضے حاصل کئے گئے۔

سال 2018 میں بننے والی نئی حکومت کو مجموعی طور پر پچیس ارب ڈالر کے قرضے اتارنے ہوں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں