اتوار, جولائی 19, 2026
اشتہار

پاکستان کا حکومتی بیرونی قرضہ 92.2 ارب ڈالر تک جا پہنچا

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : پاکستان کا حکومتی بیرونی قرضہ 92.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، ملکی بیرونی قرضوں میں 364 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق حکومتِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اقتصادی سروے میں بتایا گیا کہ مارچ 2026 کے اختتام تک پاکستان کا مجموعی سرکاری بیرونی قرضہ 92.2 ارب ڈالر کی سطح کو چھو گیا ہے۔

دستاویزات میں کہنا تھا کہ مالی سال 2026 کے پہلے 9 ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران ملکی بیرونی قرضوں میں 364 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اس بار قرضوں میں اضافے کی رفتار نمایاں طور پر سست رہی ہے۔

اقتصادی سروے کے مطابق مجموعی قرضے میں سے 82.26 ارب ڈالر وفاقی حکومت پر واجب الادا ہیں، اس میں سے طویل مدتی بیرونی قرضہ 68.41 ارب ڈالر جبکہ قلیل مدتی قرضوں کا حجم 13.85 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کے واجب الادا قرضے 9.89 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو کہ پاکستان کے کل بیرونی قرضوں کا تقریباً 11 فیصد بنتا ہے۔

سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو سب سے زیادہ مالی معاونت کثیر الجہتی عالمی اداروں سے حاصل ہوئی، ورلڈ بینک ، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر کثیر الجہتی اداروں کے قرضے 42.48 ارب ڈالر ہیں، جو کل قرضوں کا سب سے بڑا حصہ یعنی 46 فیصد بنتا ہے۔

پیرس کلب کے ممالک کا قرضہ بڑھ کر 5.49 ارب ڈالر ہو گیا ہے، جو کل بیرونی قرضوں کا تقریباً 6 فیصد ہے جبکہ چین اور دیگر غیر پیرس کلب ممالک سے لیے گئے دوطرفہ قرضوں کا حجم 19 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں جاری کردہ یوروبانڈز اور انٹرنیشنل سکوک بانڈز کا حجم 6.3 ارب ڈالر ہے، جبکہ غیر ملکی کمرشل بینکوں سے لیے گئے قرضے 6.32 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

اقتصادی سروے میں اس مثبت رجحان کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ حکومت اب اپنی معاشی حکمتِ عملی تبدیل کر رہی ہے، وفاق اب مہنگے اور قلیل مدتی قرضوں کے جال سے نکل کر سستی اور طویل مدتی فنانسنگ کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جاری معاشی اصلاحات اور ملکی آمدنی میں اضافے کے اقدامات کی بدولت درمیانی مدت میں پاکستان پر قرضوں کے اس بھاری بوجھ میں بتدریج کمی کی توقع ہے۔

اہم ترین

علیم ملک
علیم ملک
علیم ملک پاور ڈویژن، آبی وسائل، وزارت تجارت اور کاروبار سے متعلق دیگر امور کے لیے اے آر وائی نیوز کے نمائندے ہیں

مزید خبریں